پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی تشویشناک صورت اختیار کر گئی

منگل 4 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی بڑھتی تعداد نے پریشان کن صورت حال اختیار کر لی ہے۔

پاکستان نیشنل پولیو لیبارٹری کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق پاکستان کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس سیمپلز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

پاکستان نیشنل پولیو لیبارٹری کے مطابق پشاور کے ماحولیاتی نمونے سے ملنے والے پولیو وائرس کے سیمپلز کی تعداد 4 ہے، پاکستان میں اس وقت رپورٹ ہونے والے 5 ماحولیاتی نمونے افعانستان کے جینیاتی نمونوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

پولیو وائرس کے ماحولیاتی نمونے کی افعانستان سے پاکستان منتقلی کا واضح ثبوت ہیں۔پاکستان میں رواں برس اب تک بنوں سے ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم گرما پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ہوتا ہے جب کہ موسم گرما کے آغاز میں ہی پولیو وائرس کا پایا جانا تمام متعلقہ اداروں کے لیے باعث تشویشناک ہے۔

ادھر وفاقی وزارت صحت کے حکام کے مطابق پشاور میں چوتھی دفعہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔ پشاور میں پایاگیا وائرس افغانستان کے علاقے اسد آباد کے وائرس سے مماثلت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘