نیب ترامیم کیخلاف سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر حکومتی وکیل کا جواب

ہفتہ 9 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے جواب جمع کروا دیا ہے۔

حکومتی وکیل نے عدالت کے اس سوال پر کہ کہ احتساب عدالت کا دائرہ اختیار محدود ہونے سے ریفرنس کس عدالت کو منتقل ہونگے؟ جواب میں لکھا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کا رکن ہونا جرم نہیں۔عدالتی سوال کا جواب جرم کی نوعیت پر منحصر ہے۔

V2_Answer to CJP’s Query [NAB] by akkashir on Scribd

حکومتی وکیل کے مطابق الزام کی نوعیت دیکھ کر ارکان پارلیمنٹ کے کیسز کسی اور فورم کو بھیجے جا سکتے ہیں۔انکوائری یا انویسٹیگیشن کی سطح پر چئیرمین نیب خود متعلقہ فورم کو کیس ریفر کر سکتے ہیں۔

حکومتی وکیل مخدوم علی خان  مؤقف ہے کہ دائر ہوچکے ریفرنس کو عدالت نیب کی معاونت سے متعلقہ فورم پر بھیج سکتی ہے۔ منی لانڈرنگ کیسز انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں بتائے گئے اداروں کو منتقل ہوں گے۔

انہوں نے جواب میں لکھا ہے کہ دائرہ اختیار سے خارج کیسز انسداد کرپشن کے صوبائی اداروں کو بھی بھیجے جا سکتے ہیں،ْ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘