کیا صارفین کو ’ایکس‘ تک رسائی کے لیے پیسے دینا ہوں گے؟

منگل 19 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ تمام صارفین کو ایکس تک رسائی کے لیے ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ لائیو اسٹریمنگ کے دوران گفتگو میں ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ایکس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 55 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، یہ صارفین ایک دن میں ایکس پر 10 سے 20 کروڑ تک پوسٹ شیئر کرتے ہیں۔

ایلون مسک کا موقف تھا کہ مصنوعی ذہانت پر تکیہ کرنیوالے چیٹ بوٹس کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ ادائیگی کا نظام ہے، ہم صارفین سے ایک معمولی ماہانہ ادائیگی کے نظام کی جانب پیشقدمی کررہے ہیں۔

ایلون مسک نے یہ نہیں بتایا کہ صارفین کو یہ ادائیگی کب سے کرنا ہو گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر( ایکس) خریدنے کے بعد اس میں کئی تبدیلیاں کی ہیں، جن میں اہم تبدیلی پیسوں کے عوض صارفین کو بلیو ٹک سبسکرائبر کا درجہ یعنی ایکس پریمیئم بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ایکس کے سبسکرائبر کو ماہانہ 8 ڈالر ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جس کے بدلے ان کو ایکس پر طویل دورانیے کی ویڈیو پوسٹ کرنے اور لاتعداد الفاظ میں تحریریں شیئر کرنے کی سہولیت فراہم کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘