بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوک گلوکار واسو خان انتقال کرگئے

جمعہ 24 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نصیر آباد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوک گلوکار واسو خان انتقال کرگئے۔

واسو خان سانس کی بیماری کے علاوہ شوگر اور بلڈ پریشر کے امراض میں بھی مبتلا تھے۔ ان کا انتقال گزشتہ شب سکھرکے نجی اسپتال میں ہوا۔

واضح رہے کہ واسو خان نے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کے ساتھ کام کرکے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت پائی تھی۔

گلوکار واسو خان نے معروف سنگر شہزاد رائے کے ساتھ جو گانے گائے ان میں ’واجہ، بائے بائے‘ اور مشہور گانا ’اپنے الو‘ شامل ہیں۔’اپنے الو‘ میں پاکستان کی سیاسی تاریخ اور سیاسی حالات کو اجاگر کیا گیا تھا۔

شہزاد رائے نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’وہ لکھنے پڑھنے سے قاصر تھے لیکن سیاسی فہم کے مالک تھے اور سیاسی طنز کرتے تھے۔ ہم انہیں یاد کریں گے۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق واسو کا اصل نام محمد وارث تھا۔ ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے گاؤں گور ناڑی سے تھا۔

وہ محکمہ پولیس بلوچستان میں درجہ چہارم کے ملازم تھے۔ وہ پولیس ملازمت کے دوران اپنی منفرد کلوگاری کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے جس میں وہ علاقائی اور ملکی سیاست پر تنقید کرتے تھے۔

 

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟