آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے نقصانات کی رپورٹ کیوں مسترد کر دی؟

پیر 6 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ پر جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ سرکاری اداروں کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے وزارت خزانہ سے نئی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف مشن کو سرکاری اداروں کے نقصانات پر مبنی ابتدائی رپورٹ پیش کی تھی مگر آئی ایم ایف نے پرانے اعدادوشمار کے بجائے نئی رپورٹ طلب کی جس پر وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے د سمبر 2023ء تک کا وقت مانگا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ آئی ایم ایف مشن نے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے رپورٹ طلب کی تاہم پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے نئے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جارہا ہے، نئے اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ اگلے ماہ تک مکمل ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے گزشتہ ہفتے پاکستان سے آئندہ 10 ماہ کا ٹیکس پلان طلب کیا تھا، جس کے بعد آج ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے حکام سے حکومتی اداروں کے نقصانات کی رپورٹ طلب کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کی اجازت، وزیر تعلیم پنجاب کا اعلان

’فرانسیسی صدر کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں، وہ اب بھی بیوی کے حملے سے صحتیاب نہیں ہوسکے‘، ڈونلڈ ٹرمپ

بھارتی ٹرین میں ملنا والا کھانا مسافر خاتون کے لیے بدترین الرجی کا باعث بنا گیا

صحارا کی گرد نے یونانی جزیرے کو نارنجی رنگ میں ڈبو دیا، پروازیں متاثر، طوفان سے تباہی

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟