کیا زمین پر گرے پتوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہیے؟

ہفتہ 11 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسم سرما میں درختوں سے پتے گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور خزاں کے موسم میں یہ عمل جوبن پر پہنچ جاتا ہے، جگہ جگہ درختوں کے دامن میں پتے گرے دکھائی دیتے ہیں لیکن کیا ان پتوں کو اکٹھا کرکے چن لینا چاہیے یا وہیں چھوڑ دینا چاہیے؟ اس حوالے سے ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ پتوں کو اپنی جگہ پر ہی چھوڑ دینا بہتر رہتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق زمین پر گرے پتوں کو اکٹھا کرنے کے بجائے زمین پر ہی پڑے رہنے دیا جائے تو پتے قدرتی طور پر سردیوں میں بھرپور نامیاتی مادے میں گل جائیں گے۔ اس عمل سے پرندوں اور دیگر کیڑوں کو بھی فائدہ مل جاتا ہے۔

اگر آپ اپنے گھر کے صحن میں بکھرے پتوں کو چھوڑ دیں گے اور ان کو اکٹھا نہیں کریں گے تو یہ فضلے کو مفت کھاد میں تبدیل کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے، جو پودوں، ماحولیات اور پیسوں کی بچت کے لیے بہترین ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ پتہ گر کہاں رہا ہے اور پتہ کون سی قسم کا ہے، پتہ واک ویز یعنی چلنے والے راستے میں نہ پڑا ہو کیونکہ وہ اکثر اوقات پھسلن کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح پتوں کو گھاس کے اوپر بھی نہیں چھوڑنا چاہیے جس سے بیماری پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اگرچہ کچھ گھاس پتوں کے فضلے کی تھوڑی سی مقدار کو تو سنبھال سکتی ہے، لیکن بہت زیادہ تعداد ان کی صحت کو خطرہ لاحق کر سکتی ہے خاص طور پر زیادہ ٹھنڈے اور برف والے علاقوں میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

بہت سے لوگ مشین کا استعمال کرتے ہوئے پتوں کو توڑنے کا انتخاب کرتے ہیں اور ٹکڑوں کو گھاس کے ٹکڑوں کے درمیان گرنے دیتے ہیں۔ پھر یہ ٹکڑے مٹی میں مزید ٹوٹ جاتے ہیں۔ تاہم، اس طرح زمینی کیڑے اور ان کے انڈے مار جاتے ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پتوں کو اتار کر باغ میں ہلکے سے پھیلا دینا چاہیے، اور انہیں موسم بہار کی نشوونما شروع ہونے سے پہلے ہٹا دینا چاہیے۔

پتیوں کو پتوں کا سانچہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ایک قسم کی کھاد جو مکمل طور پر پتوں سے بنائی جاتی ہے۔ انہیں صرف ایک کونے میں ڈھیر کریں، نائٹروجن کھاد ڈالیں، اور اسے خشک ہونے سے بچانے کے لیے پانی دیتے رہیں۔ اس میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں، لیکن پتے ایک غذائیت سے بھرپور مٹی میں ضم ہو جائیں گے۔

یاد رہے کچھ پتے دوسرے پودوں کی نشوونما کو روکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کالے اخروٹ کے پتوں میں ایک زہر ہوتا ہے جو ہائیڈرینجاس، پیٹونیا، سیب، کالی مرچ، ٹماٹر اور آلو سمیت بہت سے پودوں کو ہلاک کردیتا ہے۔

اگر پتے بڑے یا موٹے ہوں تو ان کو کھاد کے لیے استعمال نہ کریں کیونکہ ان کی سست سڑنے کی شرح مٹی اور پودوں کی جڑوں سے سورج کی روشنی اور پانی کو روک سکتی ہے۔

گرے ہوئے پتے فطرت کا عمل ہے جو زرخیز مٹی بناتے ہیں، پودوں کی جڑوں کی حفاظت کرتے ہیں اور جنگلی حیات کو، آپ کے باغ میں، اور دوسری جگہوں پر پناہ دیتے ہیں۔ اس اہم وسائل کو کیوں ضائع کیا جائے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز