پی ٹی آئی آئین کے مطابق پارٹی چیئرمین کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

بدھ 29 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا رواج نہیں ہے، برسوں سے ایک ہی شخص پارٹی چیئرمین کے عہدے پر فائز رہتا ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں کا ایک آئین ہے جس کے تحت پارٹی صدر یا پارٹی چیئرمین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ تاہم متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارٹی چیئرمین یا پارٹی صدر کا انتخاب بلا مقابلہ ہوتا ہے اور اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص پارٹی چیئرمین رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے کرائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر آئینی اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے پارٹی کو دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ ابتدا تو میڈیا پر خبریں آئیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عمران خان کو پی ٹی آئی کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ روز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چونکہ عمران خان ایک کیس میں سزا یافتہ ہیں اس لیے وہ پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتے لہذا جمعہ کو پی ٹی آئی کے نئے چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہرخان پاکستان تحریک انصاف کے نئے چیئرمین ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو چکی ہے، اس لیے آئین کے مطابق وہ پارٹی چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔ اس لیے عمران خان اس وقت پارٹی چیئرمین کا انتخاب نہیں لڑیں گے۔ عدالت کی جانب سے کیس میں بری ہونے کی صورت میں عمران خان کو دوبارہ پارٹی چیئرمین بنایا جائے گا۔

وی نیوز نے پاکستان تحریک انصاف کے آئین سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے اور پارٹی چیئرمین بننے کے لیے اہلیت کیا ہونی چاہیے؟

پی ٹی آئی چیئرمین بننے کے لیے کون کون اہل ہے اور اس کے لیے کیا قابلیت ہونی چاہیے؟ اس حوالے سے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا کہ ابھی یہ بتانا مشکل ہے، کون کون پارٹی چیئرمین بننے کا اہل ہے؟ پی ٹی آئی کے بنیادی آئین میں یہ درج کیا گیا تھا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو کسی مقدمے میں نامزد ہو، وہ کوئی بھی پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا تاہم 2013 میں اس شق میں ترمیم کر دی گئی تھی۔ اصولی طور پر کوئی بھی ایسا شخص جو پارٹی ممبر ہو وہ پارٹی چیئرمین کے انتخاب کے وقت امیدوار بن کر انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے، کسی ممبر پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کے انتخاب سے قبل انتخابی الیکشن بورڈ یا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے جو چیئرمین کے انتخاب کے لیے قواعد وضع کرتا ہے اور چیئرمین کے امیدواروں کی اہلیت کا فیصلہ کرتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پارٹی کا الیکشن کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا اس لیے پارٹی چیئرمین کی اہلیت یا قابلیت کے حوالے سے گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت پارٹی میں سب کچھ خلا میں ہو رہا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی آئین میں 2022 میں کچھ ترامیم کی گئیں۔ نئے آئین کے مطابق پارٹی چیئرمین کا انتخاب سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہوگا۔ پارٹی کے تمام رجسٹرڈ ممبرز پارٹی چیئرمین کے لیے ووٹ دیں گے۔ پارٹی الیکشن کمیشن اپنے زیر نگرانی چیئرمین کا انتخاب کرائے گا۔ ہر عام انتخابات سے 2 سال قبل پارٹی چیئرمین کے انتخاب کا انعقاد کرایا جائے گا۔

پارٹی چیئرمین کا عہدہ کسی بھی صورت میں خالی ہونے پر پارٹی کے جنرل سیکرٹری کو پارٹی چیئرمین کا اضافی عہدہ دے دیا جائے گا جس کے بعد اگلے 30 دنوں میں پارٹی چیئرمین کا انتخاب کرایا جائے گا۔

پارٹی چیئرمین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی حکمت عملی کے تحت یا غیر معمولی صورتحال میں قانونی معاملات سے نمٹنے کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے نیا طریقہ کار وضع کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

52 برس بعد گھر میں بیٹی کی پیدائش، خاندان کی خوشی دیدنی، ویڈیو وائرل

‘ڈراپ سائٹ’ کی رپورٹ مکمل بے بنیاد، آزاد کشمیر کے زمینی حقائق نے من گھڑت کہانی کا پول کھول دیا

’کوئی اور نہیں بس شیر‘، مریم نواز کا آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی پر خوشی کا اظہار

تنویر الیاس کو نیلم سے شکست، آئی پی پی نے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

بلوچستان کابینہ کے تاریخی فیصلے، گوادر میں 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری

ویڈیو

52 برس بعد گھر میں بیٹی کی پیدائش، خاندان کی خوشی دیدنی، ویڈیو وائرل

فیفا میں اعتماد کا بحران، انفانٹینو کی قیادت ناقابل قبول قرار

40 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے والے ین کو سہارا دینے کے لیے ٹوکیو اور واشنگٹن متحرک

کالم / تجزیہ

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور