پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے عوام کو ہونے والی تکلیف کا حکومت کو مکمل احساس ہے، تاہم پاکستان اس وقت عالمی حالات کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کا بھی سامنا کررہا ہے، جس کے باعث حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ اس وقت پوری دنیا ایک مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے۔ خطے کے بعض ممالک میں ایندھن کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگیں اور فوج تک طلب کرنا پڑی، تاہم پاکستان میں مشکل حالات کے باوجود ایندھن کی ترسیل کا سلسلہ برقرار رہا۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا اعلان، 20 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کا فیصلہ
انہوں نے کہاکہ حکومت نے سپلائی لائن کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی اور عوام نے بھی مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا۔
ان کے بقول سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اپنی جگہ، لیکن سب لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کو کن معاشی مجبوریوں کا سامنا ہے اور ملک کس طرح آئی ایم ایف پروگرام میں جکڑا ہوا ہے۔
پیٹرول پر ریلیف کی امید
شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پیٹرولیم لیوی کے متبادل کی تلاش کی کوشش کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ان کی پوری ٹیم کی کوشش ہے کہ عوام کو کسی نہ کسی صورت ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے عوام سے ٹیکس ادا کرنے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اگر سب لوگ اپنا حصہ ڈالیں اور ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں تو حکومت کو اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں، اسکوٹرز، چنگ چی رکشوں اور رکشوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ حکومت کو اس طبقے کی مشکلات کا احساس ہے جو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔
’گھر میں بھی پیٹرول کی قیمتوں پر ہی بات ہوتی ہے‘
علی پرویز ملک کے ساتھ خاندانی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں کے معاملے پر ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ گھر میں بھی اب زیادہ تر اسی مسئلے پر بات ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کا بیٹا علی پرویز ملک بہت محنت کررہا ہے اور جس طرح ممکن ہے سپلائی لائن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا اس وقت انتہائی مشکل کام ہے اور علی پرویز ملک بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔
’سیاسی مارچ حکومت کے لیے خطرہ نہیں، عوام کو مشکلات ہوں گی‘
اسلام آباد کی جانب جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچوں سے متعلق سوال پر شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ یہ مارچ حکومت کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنیں گے، تاہم ان کے نتیجے میں عوام کو مشکلات کا سامنا ضرور ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ احتجاجی سرگرمیوں سے لوگوں کے روزگار، آمدورفت اور مریضوں کے اسپتال پہنچنے جیسے معاملات متاثر ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی مشکلات کو کم سے کم کرے۔
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ مسلسل مذاکرات کررہی ہے اور اسے صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے رہنما مذاکرات کی میز پر حکومت کا مؤقف سمجھتے بھی ہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ یہ حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کا موزوں وقت ہے۔
’عمران خان کی رہائی حکومت کے اختیار میں نہیں‘
پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ مذاکرات اور احتجاج مؤخر کرانے کے امکانات کے بارے میں شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ وہ اس بارے میں پیش گوئی نہیں کرسکتیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے فلور پر بھی مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھا چکے ہیں، تاہم عمران خان کی رہائی حکومت کے اختیار میں نہیں کیونکہ یہ معاملہ عدالتوں میں ہے اور عدالتوں کے فیصلے ہی حتمی ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی طرف سے جتنی سہولت فراہم کرسکتی ہے، فراہم کر رہی ہے، تاہم کسی عدالتی معاملے میں حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔
شائستہ پرویز ملک نے پی ٹی آئی کے اس مؤقف پر بھی بات کی کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ملاقاتوں سمیت بعض اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہاکہ اعتماد سازی دونوں طرف سے ہوتی ہے، اگر ایک فریق کچھ قدم آگے بڑھائے تو دوسرے فریق کو بھی آگے آنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ان کی اپنی قیادت بھی جیلوں میں رہی ہے لیکن اس وقت عدالتوں کے فیصلوں پر سیاسی بیانات دے کر صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق اگر کسی فریق کا واحد ایجنڈا عمران خان کو ہر صورت رہا کرانا ہو اور اس کے علاوہ وہ کسی بات کو سننے یا مذاکرات کے لیے تیار نہ ہو تو پھر مسئلے کا حل کیسے نکلے گا۔
’سڑکوں پر مسائل حل نہیں ہوتے، مذاکرات ہی راستہ ہیں‘
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ احتجاج اور دھرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ماضی میں بھی احتجاج کے بعد فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں ملک پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اور دنیا بھی جنگی صورتحال سے گزر رہی ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور دیگر پیشرفت کو بھی سراہنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اسلام آباد پر یلغار اور دھرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ مسائل کا حل سڑکوں یا میدانوں میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔
’پارلیمنٹ میں ’صحت مند بحث‘ کا فقدان ہے‘
موجودہ قومی اسمبلی کی کارکردگی اور عوام سے پارلیمنٹ کے رابطے کے بارے میں شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ موجودہ اسمبلی اور گزشتہ اسمبلیوں میں نمایاں فرق ہے۔
ان کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول میں ارکان پارلیمنٹ مسلسل مختلف معاملات پر فائر فائٹنگ میں مصروف ہیں، جس کے باعث بنیادی مسائل پر توجہ اور بحث نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے بیوروکریسی اور سول سروس میں بھی جمود اور کام کی رفتار میں کمی کی نشاندہی کی۔
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ اگر اسمبلی میں ہر معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی جائے اور اس دوران شور شرابا، کاغذات پھاڑنے یا واک آؤٹ جیسے اقدامات کیے جائیں تو صحت مند بحث کیسے ہوگی اور مسائل کیسے حل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ سیاست دان باہمی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور انہیں عوام کے مسائل کا علم نہیں۔ تاہم انہوں نے کہاکہ حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی اور سیاست دانوں کو مل بیٹھ کر اس صورتحال پر غور کرنا ہوگا۔
’خواتین ارکان اسمبلی کام کر رہی ہیں‘
خواتین ارکان اسمبلی اور ویمن کاکس کی سرگرمیوں کے حوالے سے شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ خواتین ارکان پہلے کی طرح کام کر رہی ہیں اور ویمن کاکس بھی فعال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین قانون سازی میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ کم عمری کی شادی سے متعلق قانون سازی سمیت مختلف معاملات پر کام جاری ہے۔
شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ وہ ذہنی صحت کے معاملے پر بھی طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں اور اس حوالے سے جامع قانون سازی لانے کی خواہش رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ پارلیمنٹ میں ایک طلبہ گروپ کی کنوینیئر بھی ہیں اور جامعات کے طلبہ کے ساتھ مل کر آگاہی اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہو کہ وہ ملک کے اہم کردار اور حصہ دار ہیں۔
’اپوزیشن نہ ہونے سے اسمبلی کا کردار متاثر ہوا‘
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ اسمبلی میں قانون سازی اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم وہ صحت مند بحث اور سیاسی شمولیت کا ماحول موجود نہیں جو ماضی کی اسمبلیوں میں دیکھنے کو ملتا تھا۔
ان کے مطابق مضبوط اپوزیشن حکومت کے لیے ایک مؤثر چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتی ہے، لیکن موجودہ اسمبلی میں اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باعث یہ پہلو متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت اور سیاست دانوں کو مذاکرات کے ذریعے ایک دوسرے کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق سیاست دانوں کو اپنی کھوئی ہوئی سیاسی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مل بیٹھنا اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔
پیپلز پارٹی سے اختلافات، ’اتحادی ہیں لیکن خفا خفا رہتے ہیں‘
حکومت اور پیپلز پارٹی کے تعلقات سے متعلق سوال پر شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ پیپلز پارٹی اتحادی جماعت ہے اور حکومت اسے ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے سیاسی انداز میں کہاکہ اتحادی جماعت کبھی کبھی ایسے رویے کا اظہار کرتی ہے جیسے ناراض بچہ ہو، جسے بار بار منانا پڑتا ہے، وہ اپنی پسند کی چیزیں بھی لے لیتا ہے لیکن پھر بھی خفا رہتا ہے۔
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ وہ مختلف پروگراموں میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو یہ بات کہہ چکی ہیں کہ اتحادی جماعت ہونے کے ناطے وہ حکومت پر تنقید بھی کرتی ہیں اور حکومت کے ساتھ رہ کر اپنے حصے کے فوائد بھی حاصل کرتے ہیں۔
’نئے صوبے یا انتظامی یونٹ مسئلے کا حل نہیں‘
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر شائستہ پرویز ملک نے واضح کیا کہ انہیں اپنی جماعت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف نہیں ملا، تاہم ذاتی طور پر ان کی رائے ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانا مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے کہاکہ صرف حدود تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ سول سروس، بیوروکریسی اور پورے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اگر موجودہ نظام میں اصلاحات کیے بغیر نیا صوبہ بنایا گیا تو وہاں بھی وہی بیوروکریسی، وہی ڈھانچہ اور وہی مسائل پیدا ہوجائیں گے۔
شائستہ پرویز ملک نے کہاکہ بیوروکریسی میں جمود، جواب دہی اور ذمہ داری کے فقدان کے ساتھ ساتھ کارکردگی جانچنے کے واضح اہداف اور مؤثر نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ ان کے مطابق ان بنیادی اصلاحات کے بغیر چاہے کتنے ہی صوبے یا انتظامی یونٹ بنا دیے جائیں، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
’بااختیار مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر ہوسکتی ہیں‘
انہوں نے کہاکہ نئے صوبوں کے بجائے ایک مضبوط اور بااختیار مقامی حکومت کا نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، جس کے پاس مالی اختیارات بھی ہوں۔
شائستہ پرویز ملک نے اپنے انتخابی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مقامی نمائندوں، کونسلرز اور چیئرمینز کو اپنے علاقوں کے مسائل کا براہ راست علم ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں پانی دستیاب نہیں، کہاں اسکول کی ضرورت ہے اور کہاں صحت کی سہولت موجود نہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا مسئلہ پالیسیوں یا اداروں کی کمی نہیں بلکہ موجودہ نظام کو مؤثر بنانے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک مضبوط مقامی حکومت، سول سروس اور بیوروکریسی میں اصلاحات کو ضروری قرار دیا۔
مریم نواز اور شہباز شریف میں کون بہتر؟ شائستہ پرویز ملک کا جواب
پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی کے تقابل سے متعلق سوال پر شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ خود مریم نواز کہہ چکی ہیں کہ وہ شہباز شریف کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز بلاشبہ اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ان کی کارکردگی نمایاں نظر آتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ وقت گزرنے اور کارکردگی کے مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔
مزید پڑھیں: ن لیگ پی پی کشیدگی: سینیٹر پلوشہ خان نے شہباز شریف اور مریم نواز کو نشانے پر رکھ لیا
شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ شہباز شریف کام کرنے والے شخص تھے اور انہوں نے بہت کچھ کرکے دکھایا اور کئی تبدیلیاں بھی لائیں۔ دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، اس لیے ان کا تقابل سخت ہے۔
انہوں نے اس تقابل کو عام فہم انداز میں ’چچا اور بھتیجی کا مقابلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں حتمی رائے وقت ہی دے گا۔











