کیا ایلون مسک کی اسٹار لنک پاکستان کو سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے جا رہی ہے؟

جمعہ 5 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں وفاقی حکومت نے ملک میں سٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کو فعال بنانے کے لیے قومی خلائی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

نگران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن عمر سیف نے کہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں وزارت دفاع سے نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی ) ملنے کے بعد پاکستان میں سیٹلائٹ سروس لانچ کریں گی۔ اس کوشش کی حمایت کے لیے نجی شعبہ اپنی آمدنی کا 6 فیصد حکومت کے آر اینڈ ڈی فنڈ میں دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو اسیٹلائٹ کمیونیکیشن سروس کے لائسنس فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ اب نچلے مدار میں اسیٹلائٹ سروسز کا استعمال کرتے ہوئے کمیونیکیشن کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غیر منظم خلائی شعبے کے نتیجے میں ملک کو سالانہ 40 ملین ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔ پالیسی منظوری کے بعد ایلون مسک کی اسٹار لنک پہلی کمپنی ہو سکتی ہے جو کئی سالوں کی تاخیر کے بعد پاکستان میں نچلے مدار میں اسیٹلائٹ سروس فراہم کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی ائیرپورٹ: نجی ایئر لائن عملے سے مسافر کا پاسپورٹ پھٹ گیا، جدہ کی پرواز سے محروم

سڈنی حملہ اور سرحد پار روابط، آسٹریلیا نے بھارت سے رپورٹ طلب کرلی

روس سے تیل و توانائی کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر مشاورت جاری ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کا بھارت میں نقاب ہٹانے کے واقعے پر سخت ردعمل، عالمی احتجاج کی اپیل

سندھ کابینہ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی منظوری دے دی

ویڈیو

پشاور آرمی پبلک اسکول حملہ: جب 6 غیر ملکی دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا

ریاض میں بین الاقوامی ایوارڈز کی تقریب، عالمی ٹیلنٹ اور انڈسٹری لیڈرز کو سراہا گیا

موسم اور زمینی حقائق کے باعث انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان

کالم / تجزیہ

سقوط ڈھاکہ: جاوید ہاشمی جھوٹ بول رہے ہیں

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟