پیٹرول سستا لیکن اس سے بننے والی بجلی کیوں مہنگی ہوتی جا رہی ہے؟

جمعرات 18 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کے باعث اب غریبوں کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کا بھی گزارا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک طرف روپے کی قدر بہت کم ہو گئی ہے تو دوسری طرف اشیا خورونوش اور بجلی و گیس کے بلوں نے لوگوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ماضی میں صرف ایک یا دو اشیا مہنگی ہوا کرتی تھیں تاہم اب ایک ساتھ سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں بجلی کے زائد بلوں کے باعث عوام نے ملک بھر میں بھر پور احتجاج کیا تھا اور اپنے بل کے جلائے تھے۔ اس وقت عوام کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان میں بجلی پیٹرول سے پیدا کی جاتی ہے اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باعث بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 332 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 259 روپے فی لیٹر تک آ گئی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوا تھا تو بجلی، کرایے، اشیا خورونوش سمیت دیگر چیزیں مہنگی ہو گئی تھیں تاہم اب پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے فی لیٹر کی کمی آ چکی ہے۔ لیکن اب بھی بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی نہیں کی گئی بلکہ بجلی مزید 5 روپے فی یونٹ بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس وقت پاکستان میں گیس سے سب سے زیادہ  35 فیصد بجلی بنائی جا رہی ہے۔ اس کے بعد پانی سے 23.9 فیصد، نیوکلیئر سے 14.7 فیصد، تیل سے 11.8 فیصد، کوئلے سے 9.5 فیصد، ہوا سے 2.7 فیصد، بائیو انرجی سے 1.1 فیصد جبکہ سولر سے 0.94 فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں تیل سے پیدا کی جانے والی بجلی پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل سے پیدا کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی ڈیزل سے پیدا کی گئی جس پر فی یونٹ 42 روپے 15 پیسے خرچ آیا۔

اس عرصے میں فرنس آئل سے پیدا کی گئی بجلی کی فی یونٹ قیمت 38 روپے 55 پیسے تھی۔ ایران سے درآمد کی گئی بجلی کی فی یونٹ قیمت 33 روپے 13 پیسے فی یونٹ تھی جبکہ  سال 2022 میں صرف ماہ دسمبر میں ڈیزل سے بجلی پیدا کی گئی ہے۔

پاکستان میں موجود 45 نجی کمپنیاں 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کمپنیاں امپورٹڈ کوئلہ اور تیل سے بجلی پیدا کر رہی ہیں، جب بھی عالمی منڈی میں تیل اور کوئلے کی قیمت بڑھے گی یہ بجلی بنانے والے کارخانے مہنگی بجلی بنائیں گے اور حکومت کا چونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے تو حکومت مہنگی بجلی خریدے گی۔

اس وقت حکومت کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کرنا ناممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا کو ڈسکوز صارفین کے لیے بجلی 5 روپے 62 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دنیا کی سب سے زیادہ مہنگی بجلی پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جب تک پاکستان سولر، پانی اور ہوا سے بنائی جانے والی بجلی میں اضافہ نہیں کرتا اور بجلی بنانے والے کارخانوں کے ساتھ سنہ 1990 میں کیے جانے والے معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کرتا بجلی کی فی یونٹ قیمت کم نہیں ہو سکتی۔

اگر اسی طرح تیل اور کوئلے سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی اور بجلی بنانے والے کارخانوں کے ساتھ نئے معاہدے نہ کیے گئے تو بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلدٹرمپ کے مشرقی ونگ بال روم منصوبے کے خلاف وائٹ ہاؤس پر مقدمہ

خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کا 18 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان

اشک آباد، شہباز شریف اور پیوٹن کی ملاقات میں دیر تک ہاتھ ملے رہے

ڈھاکہ، انقلاب منچ کے ترجمان پر قاتلانہ حملہ، چیف ایڈوائزر کی مذمت

صدر ٹرمپ کا ایک مہینے میں دوسری بار تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کی باری آگئی؟ علی امین گنڈاپور کی پی ٹی آئی سے چھٹی

پاکستان میں کون سی سولر ٹیکنالوجی سب سے کار آمد؟

پنجاب یونیورسٹی کا پی سی ڈھابہ، جس کی دال بھی بےمثال

کالم / تجزیہ

افغان علما کا فتویٰ: ایک خوشگوار اور اہم پیشرفت

ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کا تاریخی تناظر

سیٹھ، سیاسی کارکن اور یوتھ کو ساتھ لیں اور میلہ لگائیں