جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی صورتحال پر مذاکرہ، دوست ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے عزم کا اعادہ

اتوار 21 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ نے فرینڈز آف سلک روڈ (ایف او ایس آر) انیشی ایٹو کے تحت ’2024 میں جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کی صورتحال کا منظر نامہ‘ کے موضوع پر ایک مذاکرہ کا انعقادکیا۔

یہ تقریب بیک وقت 2 مقامات اسلام آباد اورکوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہوئی ۔ مقررین میں چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے دفاع اور پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ سینیٹر مشاہد حسین سید ،سینیٹر محمد عبدالقادر، سابق چیئرمین این ڈی ایم اے اور سابق ڈی جی ایف ڈبلیو او لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل شریک ہوئے۔

تقریب میں محمد عامر رانا ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز ، سابق سفیر سہیل محمود ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی)، سابق سفیرمسعود خالد سابق پاکستانی سفیر برائے چین، سلطان ایم حالی سکیورٹی تجزیہ کار ، شہزادہ ذوالفقار سابق صدر پی ایف یو جےاور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر نے بھی خطاب کیا۔

اس مذاکرے کی صدارت چین میں پاکستان کے سابق سفیر معین الحق نے کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید، چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے دفاع اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ابتدائی تقریر میں تصادم اور تبدیلی کے رجحانات کی طرف شرکا کی توجہ مبذول کرائی۔

اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث ہے

انہوں نے سلامتی کے مسائل کے پرامن حل کے لیے ایک نئے فریم ورک کے طور پر چین کے گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو (جی ایس آئی) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطین میں جاری نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر تشویش کا اظہار کیا۔

ایران بھارت نہیں بلکہ ایک برادر مسلم ہمسایہ ملک ہے

انہوں نے کہا کہ ایران بھارت نہیں بلکہ ایک برادر مسلم ہمسایہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کے مفادات کا کوئی بنیادی ٹکراؤ نہیں ہے۔ سینیٹر مشاہدنے خاص طور پر وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی ایران کے ساتھ تناؤ سے نمٹنے کے لیے ایک پختہ ، پر اعتماد، پراعتدال انداز کو برقرار رکھتے ہوئے تناؤ سے گریز کرنے کی حکمت عملی پر ان کی تعریف کی۔

اپنے خطاب میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے بلوچستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

چین پاکستان کا انتہائی قابل اعتماد دوست

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود نے اپنے خطاب میں چین کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل تعلقات کی بنیادی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا ایک قابل اعتماد دوست ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور سی پیک پر روشنی ڈالی اور انہوں نے’ترقی اور توانائی کے اہم خسارے کو دور کرنے‘ پر زور دیا۔

سابق سفیر سہیل محمود نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ صدر شی جن پنگ کا جی ایس آئی ‘ایک متبادل نمونہ ہے جو دنیا میں امن کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔چین میں پاکستان کےسابق سفیر (ر) مسعود خالد نے پاکستان کے لیے ایک تبدیلی کے سفر پر روشنی ڈالی۔

چین نے پاکستان کے منظر نامے کو ایک نئی شکل دی

ان کا کہنا تھا کہ2013چین نے سی پیک کے ذریعے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ مسعود خالد نے مزید کہا کہ چین نے پاکستان کے اقتصادی منظرنامے کو ایک نئی شکل دی ہے جس سےتعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہواہے۔کوئٹہ پریس کلب کے صحافیوں کی تقاریر میں بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں عوامی تاثرات کی تشکیل میں میڈیا کے اہم کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار، بالائی علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ایران کو آنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول مل سکتا ہے، رائٹرز

وزیراعظم شہباز شریف آج 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے

اسحاق ڈار کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے