ہر بچہ معیاری تعلیم کا مستحق ہے جو امن و ترقی کے لیے بھی ضروری ہے، برطانوی ہائی کمشنر

بدھ 24 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم امن، ترقی اور غربت کو ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے اور ہر بچہ اچھی تعلیم کا مستحق ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامع معیاری تعلیم امن، ترقی اور غربت کو ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے، لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا مساوی حق حاصل ہے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور اس کے ساتھ اسکول جانے والے بچوں کے سیکھنے کے معیار میں بھی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2014 سے برطانیہ نے پاکستان بھر میں تعلیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار بچوں کی براہ راست مدد کی۔

جین میریٹ نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ یہ سفر جاری ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچہ اچھی تعلیم کا مستحق ہے اور تعلیم کے عالمی دن پر ہم اس اہم کام کو انجام دینے کا عہد کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، ہوشربا انکشافات

وحدت کالونی سانحہ: سرکاری افسران کے خلاف قتل اور خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج

فیفا ورلڈکپ 2026 تنازعات کی زد میں: سیاست، مہنگے ٹکٹ اور ماحولیاتی خدشات پر شدید تنقید

پاکستان اور روس کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن، اقتصادی و توانائی تعاون میں وسعت آ رہی ہے، اویس لغاری

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 10 جون کو طلب، بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

ویڈیو

وزیر اعظم اور صدر مملکت کی اہم ملاقات، بجٹ منظوری اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو مشکلات، کیا ناراض اراکین بجٹ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟