کرایہ ہوتا تو عمران خان کو ووٹ دینے جاتا، دہاڑی دار مزدور

جمعرات 8 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملکی تاریخ کے 12ویں عام انتخابات میں جہاں ایک طرف 12 کروڑ 85 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرزاپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں، وہیں ان کروڑوں ووٹرز میں کئی ایسے بھی ہیں جو اپنے خراب معاشی حالات کے سبب آج بھی غم روزگار لیے مزدوری کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد کے کاروباری مرکز کراچی کمپنی میں وی نیوز نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کئی ایسے مزدوروں سے ملاقات کی، جو الیکشن کے روز کرایہ نہ ہونے کے سبب اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ دینے نہیں جا سکے۔

لکی مروت سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک دہاڑی دارمزدور نے بتایا کہ اگر ان کے پاس کرایہ ہوتا تو وہ عمران خان کو ووٹ دینے ضرور اپنے آبائی علاقے جاتے۔

مزدورں کے مطابق الیکشن کے انعقاد کے باعث آج مزدوری ملنے کے آثار بھی معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مایوس ہوکرجی 9 میں یہاں کھانا لینے آئے ہیں۔

جمہوری عمل کی اساس قرار دیے جانے والے انتخابی عمل میں شہریوں کی معاشی چیلنجز کے باعث شرکت سے محرومی ملکی سیاسی ڈھانچے میں تمام شہریوں کی شمولیت اور اس پر استوارپارلیمانی پائیداری پرسوالیہ نشان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف

پاک امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم، امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹالی بیکر کا اہم ویڈیو پیغام جاری

خواجہ آصف کا پارلیمنٹ میں سخت مؤقف، ’ویگو ڈالے‘ کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان کے معدنی ذخائر عالمی سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکز، 6 کھرب ڈالر کے امکانات

پاکستان بھر میں بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں، این ڈی ایم اے کی ملک گیر وارننگ جاری

ویڈیو

سوئٹزر لینڈ میں ایران امریکا مذاکرات: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جے ڈی وینس سے ملاقات

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟