ابتدائی نتائج پر ہار جیت کا ٹرینڈ سیٹ نہیں کر سکتے، احسن اقبال

جمعہ 9 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ جب تک نتائج 50 فیصد سے زیادہ نہ ہو جائیں، ٹرینڈ کا کچھ نہیں کہہ سکتے، ہم ابھی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے مقابلے میں اس بار انتخابات پر امن ہوئے ہیں، پولنگ ایجنٹس سے رابطے کرنے میں ہمیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اگر ٹیلی فون سروس بند تھی تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں، سبھی کو ہوا ہے۔  موبائل سروس کا بند ہونا لیول پلیئنگ فیلڈ تھی، جو سب کے لیے برابر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک نتائج 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گے تو کچھ بھی حتمی نہیں ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن امید کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن جلد نتائج سامنے لائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا یہ قیاس آرائیاں غلط پھیلائی جا رہی ہیں کہ نواز شریف نتائج سے مایوس ہو کر چلے گئے اور انہوں نے کوئی تقریر بھی لکھ رکھی تھی، ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ بہت سے علاقے ایسے ہوتے ہیں جہاں آپ کا مخالف کے برعکس زیادہ ووٹ بینک ہوتا ہے اور کہیں مخالف کا زیادہ ہوتا ہے، اس لیے جب تک 50 فیصد سے زیادہ نتائج نہ آئیں آپ کسی کی ہار یا جیت کا ٹرینڈ سیٹ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر کوئی آپ سے 20 یا 25 ہزار کی لیڈ سے جیت رہا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ جیت رہے ہیں، 4 یا 5 ہزار کی لیڈ 90 فیصد ووٹ پر بھی ختم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رات کے 3 بج رہے ہیں اور ہم بھی باقیوں کی طرح اپنے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، اگر جلدی نتائج اعلان ہو جائے تو ہم بھی بہت خوش ہوں گے۔ جب الیکشن کے حتمی نتائج سامنے آئیں گے تو یہ فیصلہ ہو گا کہ کون حکومت بنائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ قوم کی مرضی ہے وہ جسے چاہے حکومت کے لیے چنے، لیکن پاکستان کی صورت حال میں ضروری ہے کہ جو بھی حکومت بنائے دو تہائی اکثریت بنائے یا کم سے کم اتحاد پر مخلوط حکومت بنائے، کیوں کہ پھر وہی بلیک میلنگ شروع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟