ریٹائرڈ ججز کے خلاف کارروائی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت قرار دے دی

پیر 12 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت قرار دے دی ہے۔

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی سے متعلق وفاقی حکومت کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی عافیہ شیربانو کیس میں حکومتی انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت قرار دے دی۔

عدالت نے معاونت کے لیے عدالتی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے عدالتی معاونین کے نام اور قانونی سوالات آج ہی طلب کرلیے اور کیس کی سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1989 میں ججزتقرری سے متعلق اپیل زائدالمیعاد ہونے کے باوجود قابل سماعت قراردی تھی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر کابینہ کی منظوری سے جج کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، صدر کے پاس کسی جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا صوابدیدی اختیار نہیں، عافیہ شہربانو کیس میں صدر اور وفاقی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کن سوالات کی بنیاد پر زائد المیعاد اپیل قابل سماعت قرار دیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصلے سے یہ طے کردیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کرسکتی، عافیہ شہربانو فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایات جاری کر سکتی ہے نہ ریگولیٹ کر سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت فیصلے کے اس حصے سے متفق ہے کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایات نہیں دے سکتی، چلتی ہوئی انکوائری صرف اس بنیاد پر ختم نہیں ہو سکتی کہ جج ریٹائر یا مستعفی ہو گئے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ججز کی پنشن کا مسئلہ نہیں بلکہ عدلیہ پر عوامی اعتماد، شفافیت اوراحتساب کا معاملہ ہے، اگرجج کے خلاف انکوائری چل رہی ہو اورمستعفی یا ریٹائر ہوجائے تواس سے تذبذب رہتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟