اسرائیلی معیشت کے تازہ اعدادوشمار توقع سے کہیں زیادہ خوفناک

بدھ 21 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں جنگ مسلط کرنے کے بعد اسرائیل کو سفارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ معاشی طور پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کا گراف روز بروز تیزی سے نیچے گر رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران اسرائیل کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں سالانہ بنیاد پر 19 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو کہ اکتوبر اور دسمبر کے درمیان نقصان کے تخمینے کے 5 فیصد کے مساوی ہے۔

اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والے تنازعہ کے باعث جی ڈی پی براہ راست متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار توقعات سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔

بلومبرگ کے تجزیہ کاروں کے سروے میں اسرائیلی معیشت میں سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد کمی کا اوسط تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے باعث سال کے آخر میں اخراجات، سفر اور سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق، نجی شعبے میں اخراجات 26.3 فیصد، برآمدات میں 18.3 فیصد اور فکسڈ اثاثوں خصوصاً رہائشی عمارتوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 67.8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، فوج میں شہریوں کو طلب کیے جانے اور فلسطینی ورکرز کی تعداد میں کمی کے باعث تعمیری شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثنا، حکومتی اخراجات میں، خاص طور پر جنگی اخراجات اور کاروبار اور گھرانوں کو معاوضہ دینے کے باعث 88.1 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جی ڈی پی میں کمی کے باوجود اسرائیل کی سالانہ معیشت میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم 7 اکتوبر سے قبل، معیشت میں 3.5 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 30 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری شہید اور 70 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ اس جنگ میں 88 صحافی بھی شہید ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟