سپریم جوڈیشل کونسل کا اعلامیہ، مستعفی جج مظاہر نقوی مس کنڈیکٹ کے مرتکب قرار

جمعرات 7 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم جوڈیشل کونسل کے 29فروری کو ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ آج جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیے میں قرار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے مستعفی جج مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف 9 شکایات کا جائزہ لینے کے بعد کونسل اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے تھے اور ان کو برطرف کیا جانا چاہیے تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف دائر ہونے والی چھ درخواستوں کا جائزہ لیا جن میں سے 5 کے بارے میں متفقہ رائے دی گئی کہ ان میں کوئی خاص مواد نہیں تھا جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف کونسل نے انہیں جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سپریم جوڈیشل کونسل نے قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اپنے خلاف نشر اور اشاعت شدہ الزامات پر جواب دے سکتے ہیں۔

ججز کیخلاف الزامات لگتے رہتے ہیں

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق اس بات پر غور کیا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف مختلف الزامات لگتے رہتے ہیں اور اگر وہ اس کا جواب دیں تو 2 ستمبر 2009 کو جاری ہونے والے کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کے مطابق وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ کسی جج کو شہرت کا طلبگار نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق اس بات پر غور و خوض کیا اور قرار دیا کہ اگر کوئی جج اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے حوالے سے کوئی جواب جمع کراتا ہے یا وضاحت دیتا ہے تو یہ کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

جج ردرعمل دے سکتا ہے

کونسل نے مذکورہ شق 5 میں اس اضافے پر اتفاق کیا کہ ’اگر کسی جج کے خلاف کوئی الزام نشر یا شائع کیا جاتا ہے تو وہ اس پر اپنا ردعمل دے سکتا ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟