چوہے چرس کے عادی ہو گئے، تھانے کے مال خانے سے چرس چرانا شروع کر دی

جمعرات 14 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی شہر نیو اورلینز کے پولیس چیف نے کہا ہے کہ چوہے پولیس ہیڈ کوارٹر کے مال خانے سے ضبط شدہ چرس چرا کر لے جاتے ہیں۔

انہوں نے سٹی کونسل کے اراکین کو بتایا کہ یہ چوہے چرس کے عادی ہو گئے ہیں اور ہمارے مال خانے سے چرس چوری کرتے ہیں۔

اراکین نے پولیس چیف کی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کیونکہ آج تک کسی نے چرس کے عادی چوہوں کے بارے میں نہیں سنا تھا۔

جب پولیس چیف سے دریافت کیا گیا کہ چوہے چرس کیسے استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ چرس کھا جاتے ہیں۔ لیکن کیڑے مکوڑے کنٹرول کرنے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ چوہے چرس نہیں کھا سکتے۔

میڈیا نے بھی پولیس چیف سے سوال کیے کہ چرس کھانے کے بعد چوہوں کا کیا رد عمل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چرس کھا کر وہ بالکل ویسے ہی ‘ٹُن’ ہو جاتے ہیں، جیسے انسان چرس پی کر ہوتے ہیں۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ چونکہ انسان اور چوہے کی بیالوجی میں کافی مماثلت ہے لہذا یہ بعید از قیاس نہیں کہ چوہے چرس کھا کر ‘ٹن’ ہو جاتے ہوں اور اس نشے کے عادی بھی ہو جائیں۔

چوہوں اور چرس کی کہانی تب سامنے آئی جب پولیس چیف کونسل اراکین کو باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت بوسیدہ ہو چکی ہے، گندگی بیان سے باہر ہے، اور خستہ حالی کا یہ عالم ہے کہ چوہے بآسانی مال خانہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید شکایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسروں کی میزوں پر چوہے مینگنیاں کر دیتے ہیں، اور عمارت میں کاکروچوں کا بھی راج ہے۔

کونسل نے پولیس چیف کو بتایا کہ عمارت کی خستہ حالی کے پیشِ نظر وہ 7.6 ملین کی لاگت سے ہیڈ کوارٹر کو 10 سال کے لیے کسی پلازہ میں شفٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟