پاکستان اور افغانستان کے مابین دو سہیلیوں کا جھگڑا تو نہیں، نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی

بدھ 27 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

16 مارچ کو دہشت گرد حافظ گل بہادر گروپ کی جانب سے میرعلی میں حملوں کے جواب میں 18 مارچ کو پاکستان نے افغانستان میں مذکورہ گروپ کے خلاف فضائی حملے کیے جس پر افغان عبوری حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ان حملوں کو افغان خود مختاری کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

اس پس منظر میں پاکستان کی وزارت تجارت کا ایک وفد سیکریٹری تجارت خرم آغا کی سربراہی میں کابل میں تجارتی امور کے بارے میں بات چیت کے لیے موجود ہے، جس میں پاکستان اور افغانستان کے مابین بارڈر کراسنگ پر سہولیات بڑھانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

دونوں ممالک میں حالیہ خراب صورتحال کے پیش نظر بظاہر یہ ایک حیران کن پیش رفت ہے، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو ملانے کے لیے افغانستان کی جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان اور افغانستان کے عوام بھی ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھنے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں۔

دوطرفہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں؛ آصف درانی

پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت تجارت و کامرس کا وفد افغانستان کا دورہ کر رہا ہے اور یہ ایک پہلے سے طے شدہ دورہ تھا، جس میں تجارت سے متعلق ہمہ جہت پہلوؤں پر گفتگو متوقع ہے۔

پاک افغان حالیہ تنازعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی دو سہیلیوں کا جھگڑا نہیں یہ دو مملکتوں کے درمیان کا معاملہ ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے مابین پہلے بھی تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ بات چیت بھی جاری رہتی ہے۔

آصف درانی کے مطابق فی الوقت اس دورے کے نتائج کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا، ابھی رپورٹس موصول ہوں گی تو پھر اس کے بعد ہی اس بارے میں بات کرنا ممکن ہوگا۔

بھارت اور چین کے مابین تنازعات اور تجارت ساتھ ساتھ چلتی ہے، علی سرور نقوی

سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق سفیر علی سرور نقوی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ تجارت کے بارے میں بات چیت ہونی چاہیے، ابھی تو بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا، بھارت اور چین میں بہت سے تنازعات ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی چلتی رہتی ہے۔

علی سرور نقوی نے کہا گو کہ افغان عبوری حکومت تحریک طالبان پاکستان کے خلاف اس طرح سے کارروائیاں نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہییں یا جیسا ہم چاہتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان حکومت نے یہ صحیح قدم اٹھایا ہے، ایک سوال کہ جواب کہ آیا پاکستان کسی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں تو یہ بات چیت نہیں کر رہا، علی سرور نقوی نے کہا کہ یہ پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھنے سے پاکستان کو افغانستان میں زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔

 پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں ہوئے، مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات منقطع تو نہیں ہوئے اور دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بھی کوئی پہلی بار نہیں ہوئی۔ ’جو وفد گیا ہے وہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے بارے میں بات چیت کرے گا باقی دہشت گردی کے حوالے سے ہماری سیکیورٹی فورسز کارروائی بھی کرتی ہیں اور بات چیت بھی، یہ متوازی سلسلہ چلتا رہنا چاہیے۔‘

مسعود خالد کے مطابق افغان طالبان یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہییں جبکہ پاکستان کو گلہ ہے کہ افغان عبوری حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ ’۔۔۔لیکن اس کا اثر بہرحال تجارت پر نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ روزانہ سینکڑوں ٹرک آر پار آتے جاتے ہیں جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ