دہشتگردی کی نئی لہر: پاکستان کا افغان بارڈر پر تمام عالمی قوانین نافذ کرنے کا عندیہ

بدھ 27 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پیش نظر پاک افغان بارڈر پر تمام عالمی قوانین نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر ضروری ہے کہ بارڈر پر بنیادی تبدیلی کی جائے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ہمیں پاک افغان بارڈر پر تمام عالمی قوانین نافذ کرنا ہوں گے۔ کیونکہ افغانستان سے ہوکر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کابل کی جانب سے ہماری کوششوں کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی۔

خواجہ آصف نے کہاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور یہ سب کابل کے علم میں ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر دنیا بھر کے روایتی بارڈرز سے مختلف ہے، مگر اب ضروری ہے کہ دہشتگردوں کی آزادانہ نقل و حمل کو روکا جائے۔

واضح رہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر کا معاملہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ اٹھایا گیا ہے، مگر افغانستان ٹی ٹی پی کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کررہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے