12افراد کی پراسرار بیماری سے موت، عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات

اتوار 8 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رحیم یار خان میں پراسرار بیماری سے ایک خاندان کےبارہ افراد جاں بحق افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عالمی اور قومی ادارہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقے پہنچ گئیں نئے پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

رحیم یار خان کے نواحی علاقے رکن پور میں بیماری سے ایک ہی خاندان کے جاں بحق افراد کی ہلاکتوں اور دیگر علاقہ مکینوں کے متاثر ہونے کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت اور قومی ادارہ صحت کا 10 رکنی وفد متاثرہ علاقے پہنچ گیا۔

قومی اور عالمی ماہرین نے تمام پہلوؤں سے از سرِ نو تحقیقات شروع کردیں۔ ماہرین نے متاثرہ گھر اور ملحقہ علاقے کا جائزہ لیا۔ متاثرہ خاندان اور دیگر متاثرہ افراد کے لواحقین سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرکے بیانات قلمبند کیے جبکہ مختلف طریقوں سے متاثرہ گھر اور ملحقہ علاقے کا معائنہ بھی کیا۔

گزشتہ دنوں رحیم یارخان کے علاقہ رکن پور میں بخار سےایک ہی خاندان کے 12 افراد کی اموات کا معاملہ سامنے آیا تھا۔جس کے بعد متاثرہ علاقے کے مزید 9 افراد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اورشیخ زایداسپتال کی رپورٹ کےمطابق گردن توڑ بخار 12 افراد کی موت کی وجہ بنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟