سپریم کورٹ نے بارودی مواد برآمدگی کیس میں مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا پانے والے 2 ملزمان ارشد علی اور واجداللہ کو بری کرتے ہوئے ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں۔
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ملزمان کے وکیل ارشد حسین یوسفزئی ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے۔
سیشن کورٹ صوابی نے دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے ملزمان کی اپیل مسترد کردی تھی۔
ملزمان نے ارشد حسین یوسفزئی ایڈووکیٹ کے ذریعے سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ملزمان سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ
استغاثہ کے مطابق 17 نومبر 2013 کو یارو حسین پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے 2 پستول، 2 ہینڈ گرنیڈ اور ایک دیسی ساختہ بم برآمد ہوا تھا۔
سیشن جج صوابی نے جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو قید اور جائیداد ضبطی کی سزا سنائی تھی۔
سپریم کورٹ نے ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں کو بری کردیا۔














