کراچی: ویب سیریز ’اکڑ بکڑ رفو چکر‘ کا عملی مظاہرہ، باہر جانے کے خواہشمند نوجوان جمع پونجی سے محروم

منگل 16 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کتابیں پڑھنے، مویز یا ڈرامے دیکھنے سے انسان کے ذہن میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ جن کو رہنمائی کے لیے بعض دفعہ عملی زندگی میں لاگو بھی کیا جاتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ انسان ان سے مثبت سبق لے، یہ بھی تو ممکن ہے کہ حقیقت پر مبنی ڈراموں یا کتابوں کی منفی کہانیوں کو شہری بطور شارٹ کٹ عملی زندگی میں لاگو کریں۔

کراچی میں ایسا ہی ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا جس کی کہانی بھارتی ویب سیریز ’اکڑ بکڑ رفو چکر‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ویب سیریز میں جعلی بینک بنا کر شہریوں کو لوٹا گیا جبکہ کراچی میں ایسا دفتر بنایا گیا جس کا کام بظاہر فی کس کم سے کم اڑھائی لاکھ روپے جمع کرکے انہیں ملک سے باہر بھیجنا تھا۔

متاثرین کا کارروائی کے لیے ایف آئی اے سے رجوع

اس ڈرامے کی حقیقت تب سامنے آئی جب سعودی عرب لے جانے والی نجی کمپنی کے خلاف متاثرین نے قانونی جارہ جوئی کے لیے ایف آئی اے میں درخواست دی۔

درخواست میں متاثرین کی جانب سے نجی کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کی گئی اور کہا گیا ہے کہ ہمارے پاسپورٹس سمیت دیگر دستاویزات نجی کمپنی کے پاس ہیں۔

پولیس کے مطابق نجی کمپنی کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد نوجوانوں نے درخواستیں دی ہیں جس کی تفتیش جاری ہے۔

ہم سے رقم ہتھیانے کے بعد کمپنی کے دفتر کو تالا لگا دیا گیا، متاثرین

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ڈیفنس فیز 8 میں نجی کمپنی نے سعودی عرب اور دبئی میں ملازمت کے لیے نوجوانوں سے رقم لی، آج کمپنی کے دفتر میں ملک سے باہر جانے کے لیے دستاویزات لینے پہنچے تو آگے تالہ لگا ہوا ہے۔

ان متاثرہ افراد کی تعداد 80 کے قریب بتائی جا رہی ہے جبکہ نجی کمپنی مختلف امیدواروں سے کم از کم 2 کروڑ روپے بٹور کر ’اکڑ بکڑ رفو چکر‘ ہوگئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘