حکومت کے ساتھ مذاکرات کیسے ہوں گے جو اسمبلی میں بولنے کی بھی اجازت نہیں دیتی، بیرسٹر گوہر

منگل 16 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ سیاست میں مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے لیکن اس حکومت کے ساتھ مذاکرات کیسے ہوں گے جو اسمبلی میں بولنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان کی رہائی حکومت کے ساتھ کسی بھی ڈیل کے نتیجے میں نہیں ہو گی، ہم عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عمران خان پر تمام مقدمات ’پولیٹیکل ویکٹامائزیشن‘ کے کیسز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عدالتوں سے امید لگائے ہوئے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے دیں گے اور عمران خان رہا ہو جائیں گے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں تو گواہان کے بیانات بھی آ چکے ہیں کہ وہ محض اس کے ٹرسٹی ہیں انہوں نے اس سے کوئی فوائد حاصل نہیں کیے ہیں۔

شیشہ لگائے جانے سے قبل عمران خان کے کان میں بات کیا کرتے تھے

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ اب عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کے درمیان موٹا شیشہ حائل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ میں جب بھی عمران خان سے ملنے جایا کرتا تھا تو کوئی اہم بات ہوتی تو ان کے کان میں کیا کرتا تھا ، شیشے کی دیوار کے باعث اب ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہے، میں اہم امور پر عمران خان سے مشاورت لیتا ہوں۔

شہریار آفریدی کو پارٹی کے فورم پر بات کرنی چاہیے

ایک اور سوال کے جواب میں شہریار آفریدی کے  الزامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا شہر یار آفریدی ہمارے وفادار ساتھی ہیں،انہیں جو کچھ کہنا ہے وہ پارٹی کے فورم پر کہنا چاہیے۔

پولیٹکل کمیٹی کے ممبران کے تمام نام عمران خان نے دیے ہیں، اگر وہ اس کا حصہ نہیں ہیں تو انہیں فہرست بڑھنے پر شامل کر دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے پریس کانفرنس کی یا پارٹی چھوڑ دی ان کو واپس لانے کا فیصلہ بھی عمران خان خود کریں گے۔ سخت وقت میں پارٹی کو چھوڑنے والوں کے بارے میں بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔

دھاندلی کے خلاف تحریک ضرور کامیاب ہو گی

انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک ضرور کامیاب ہو گی، ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ کسی بھی الیکشن دھاندلی نہ ہو، اس بات کی ہم نے ضمانت لینی ہے، آج تو یہ صورت حال کہ جج صاحبان خود انصاف مانگ رہے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ ان کے کام میں کوئی مداخلت نہ کرے۔

پیشن میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف نعروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جوا ب میں بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پارٹی میں کارکن نظریے کے مطابق چلتے ہیں لیکن ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر تحریک کو کامیاب کرنا ہے تو ہم سب کو مل کر چلنا ہوگا۔ گو ہمارے نظریات مختلف ہیں لیکن ملک کی بہتری کے لیے ہماری تحریک کا نظریہ ایک ہی ہے۔

مہنگائی کو سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے مارکیٹ کے دورے اور سستی روٹی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میاں نواز شریف نے 90 کی سیاست کر رہے ہیں، ایک طرف روٹی سستی کر رہے ہیں تو دوسری طرف چیزوں کی قیمت دوگنی کر دی جاتی ہے اس سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے معاملے کو سیاست سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سے باہر نکل دیکھنا چاہیے، صرف آٹے کی بات نہیں بلکہ پیٹرول، ایجوکیشن کو سستا کرنے کی بھی بات کرنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp