بلوچستان میں وزارتوں کی تقسیم، مسلم لیگ ن اندرونی اختلافات کا شکار

بدھ 24 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خدا خدا کرکے بلوچستان میں 48 روز کی تاخیر کے بعد کابینہ کا قیام عمل میں آیا تو وزارتوں اور دیگر عہدوں کی تقسیم پر اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگ گئیں۔

یوں تو حکومتی اتحاد میں 3 سیاسی جماعتیں شامل ہیں جن کو طے کردہ فارمولے کے تحت وزارتیں اور مشیروں کے عہدے تفویض کردیے گئے ہیں لیکن معاملہ یہاں حل نہیں ہوسکا۔ صوبے میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن ان دنوں اختلافات کا شکار ہے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی زرک مندوخیل جماعت میں اتفاق اور بھائی چارے کا راگ تو الاپ رہے تھے لیکن پس پردہ کہانی کچھ اور ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کی تشکیل سے قبل مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کے درمیان رسا کشی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، ہر منتخب ایم پی اے کی یہ خواہش تھی کہ وزارت یا مشیر کا کوئی عہدہ مل جائے تاہم طے شدہ فارمولے کے تحت مسلم لیگ ن کو 6 وزراتیں اور مشیر کے 2 عہدے ملے۔

پارٹی میں اختلافات نے تب جنم لیا جب مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین اور ایک غیر منتخب رہنما کو ن لیگ کی جانب سے نوازا گیا، اس معاملے پر پارٹی کے منتخب رہنماؤں نے صوبائی صدر سے رابطے کیے جس پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، یوں پارٹی صدر اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی میں اختلافات پیدا ہوئے جس پر ان رہنماؤں نے مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت سے بھی رابطے کیے۔

مسلم لیگی ارکان کا پارٹی صدر کے خلاف احتجاج کا ارادہ

ذرائع کا بتانا ہے کہ مسلم لیگ نواز سے چند ارکان اسمبلی پارٹی صدر کے خلاف احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں پارٹی صدر کا بطور گورنر منتخب ہونے کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑگیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ پنجاب میں تو مسلم لیگ ن ایک نظریاتی جماعت ہے لیکن بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا قیام نظریے نہیں بلکہ مفاد کی بنیاد پر قائم ہے، ایسے میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر ایوان میں آنے والوں کا مقصد بھی عہدوں کا حصول ہے۔ ’گزشتہ برس جب مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک نجی ہوٹل میں سیاستدانوں کو جوق در جوق پارٹی میں شامل کیا گیا تھا تب ہی یہ بات واضح تھی کہ مستقبل میں انتخابات میں کامیاب ہونے والے یہ لوگ ایوان میں مسلم لیگ ن سے عہدوں کا مطالبہ کریں گے‘۔

’مرکزی قیادت نے معاملات حل نہ کرائے تو مخلوط حکومت کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘

سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ ن میں اس وقت اختلافات موجود ہیں، اگر مرکز میں موجود قیادت نے اس معاملے کو جلد حل نہ کیا تو پارٹی صوبے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے جس سے مخلوط حکومت کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، بطور وزیراعظم شہباز شریف کا ملک میں کوئی نعم البدل نہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

صدر مملکت آصف زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات

وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع

جاپانی کورٹس میں پاکستانی شاہینوں کا راج، 37 ویں جونیئر اوپن سکواش میں 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام

کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟