ایک گروہ نے ہمارے اداروں کا تقدس پامال کیا جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں، جمال رئیسانی

جمعرات 9 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے سانحہ 9 مئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک گروہ نے ہمارے اداروں  کی تذلیل کی جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

کوئٹہ میں جمعرات کو شہدا فورم کے  تقریب  سے خطاب  کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور شہادتوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کسی کو بھی شہدا اور ان کی یادگاروں کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ان محسنوں کی قربانی کی ہمیشہ قدر کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد نے بھی شہادت پائی تھی اس لیے انہیں لواحقین کے درد کا بخوبی احساس ہے اور وہ ان کے ساتھ ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

گوادر میں بے گناہ لوگوں کو شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے واقعے کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ  بلوچستان آج شاید زیادہ مصروف تھے اس وجہ سے انہوں نے شہدا کے لواحقین تک کو وقت نہیں دیا۔

رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ شہدا کے لواحقین کے روزگار کو ملازمت کی فراہمی کے لیے نجی اور سرکاری اداروں، اسکولز اور جامعات میں بھی مخصوص کوٹے رکھے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘