ٹک۔ ٹک۔ ٹک۔ ٹک

بدھ 22 مئی 2024
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک دھماکہ ہونے سے پہلے کچھ خاموشی ہوتی ہے۔ ایک طوفان آنے سے پہلے کچھ سناٹا ہوتا ہے۔ جس طرح ٹائم بم کی پن نکال لینے کے بعد کچھ وقفے کے بعد تباہی ہوتی ہے بس! اسی طرح کا وقفہ ہم پر اس وقت گزر رہا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ،  وقت کے اسی ننھے سے ثانیے سے گزر رہے ہیں جس کے بعد دھماکہ ہونا ہے، تباہی ہونی ہے اور جس کے بعد کسی کو،  کسی کا ہوش نہیں رہنا۔ پھر گھمسان کا رن پڑنا ہے، پھر تخت و تاج ہوا میں اچھالے جائیں گے۔

ایک ماہ سے کم عرصے میں بجٹ پیش ہونے والا ہے۔ آئی ایم ایف ہمارے سر پر لاٹھیاں برسا رہا ہے۔ کبھی سیاسی حالات کو بہانہ بناتا ہے، کبھی معاشی پالیسیوں کو غلط بتاتا ہے، کبھی بجلی کے بل بڑھانے کی فرمائش کرتا ہے، کبھی گیس کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے، کبھی ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدنی سے غیر مطمئن دکھائی دیتا ہے، کبھی معاہدے کے دودھ میں مینگنیاں ڈال دیتا ہے۔ بھکاری کشکول لیے کھڑے رہتے ہیں مگر دان دینے سے پہلے عزت و ناموس کا دلیہ ہو جاتا ہے۔

توقع یہی ہے کہ آئی ایم ایف اس دفعہ بھی نئے ٹیکسز نافذ کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ اور حکومت میں انکار کی تاب نہیں، فقیروں کے پاس جرات اختلاف نہیں۔ جو حاکم وقت کہے گا اس کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا پڑے گا۔ جو حکم آئی ایم ایف کی میٹنگ سے آئے گا اس پر لبیک کہنا پڑے گا کیونکہ ہم ایک ایسے چنگل میں پھنس چکے ہیں جہاں ہمیں قرضے پر جمع سود ادا کرنے کے لیے بھی قرضہ درکار ہے۔ اصل زر کی واپسی کی باری جانے کب آئے گی لیکن سود کی واپسی کے لیے ہم  دنیا کے سامنے جھولی پھیلائے بیٹھے ہیں۔

بجٹ پیش ہو گا تو قیمتیں بڑھیں گی، مصیبت زدگان پر ایک اور مصیبت آ گرے گی۔   غریبوں کی جھگی کی چھت میں ایک اور سوراخ ہو جائے گا۔ پہلے صرف ایک شخص خود کشی کرتا تھا اب شاید مفلسی کے مارے خاندان کے خاندان اذیت جان سے گزر جائیں۔ کیونکہ اب لوگوں میں مہنگائی کی مزید تاب ہے نہ غربت برداشت کرنے کی مزید سکت ہے۔ اب ان کے صبر کا پیمانہ آخری حد تک بھر چکا ہے، اب مزید ان کا امتحان نہیں لیا جا سکتا۔

چند ہی دن پہلے کی بات ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ کسی نے اسے ملک سے غداری کہا، کسی نے ریاست سے بغاوت گردانا مگر جو مناظر ہم نے دیکھے۔ جو کچھ وہاں ہوا وہ نہ بغاوت تھی نہ غداری۔ وہ بھوک تھی، مفلسی، ناداری تھی۔ جس نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا۔ وہ آٹے کی ایک بوری تھی جس نے لوگوں کو شہر جلانے پر مجبور کر دیا۔ وہ بجلی کے بل تھے جنہوں نے لوگوں کی زندگی اندھیر کر دی تھی۔

لیکن یہ صرف بے بسی نہیں تھی۔ یہ غصہ بھی تھا۔ یہ طیش بھی تھا۔ یہ انتقام بھی تھا۔ یہ اشتعال بھی تھا۔ یہ احتجاج بھی تھا۔ اس نظام کے خلاف جو دوبئی لیکس میں نام آنے والوں کو تو برسر اقتدار لے آتا ہے مگر ان کے لیے نعرے لگانے والوں کو، ان کے لیے جلسے بھرنے والوں کو ایک ایک پائی کے لیے رسوا کرتا ہے۔ جب لوگ اتنا سنگین مذاق اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ دیکھتے ہیں تو پھر وہ کسی قانون، ضابطے اور اصول کو نہیں مانتے۔ یاد  رکھیے  بھوکے پیٹ کا اپنا آئین ہوتا ہے۔

لوگوں کو صبر آ جاتا اگر کہیں سے کوئی بہتری کی خبر متوقع ہوتی۔ لوگ خاموش ہوجاتے اگر کہیں سے کچھ اعشاریے ان کے حق میں ہوتے۔ لوگوں کو خاموش کروایا جا سکتا تھا اگر ان کے لیے کوئی ریلیف کی خوشخبری ہوتی۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ اس دفعہ کے بجٹ میں عوام کے مردہ جسموں پر سنگ باری ہوگی۔ لوگوں کو یہی خدشہ جینے نہیں دے رہا۔ یہی خوف ان کی زندگی کو اجیرن کیے ہوئے  ہے کہ اس سے برا اگر ہوا تو وہ کیا ہو گا۔

اب حالات ایسے ہیں کہ جیسے سب کسی حادثے ، دھماکے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے  کسی ٹائم بم کی پن نکال دی گئی ہے اور سماعتوں میں صرف ٹک ٹک ٹک کی آواز آ رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس کے بعد دھماکہ ہونا ہے۔ اس کے بعد تباہی آنی ہے۔ اس کے بعد جو ہونا ہے وہ بہت برا ہونا ہے۔

اسی وجہ سے اب معاملات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ لوگوں کے اکٹھ سے ارباب بست و کشاد کو ڈر لگتا ہے۔ شاعروں کے شعروں سے خوف آتا ہے۔ نعروں کی آوازوں سے دل دہل جاتے ہیں۔

شہباز شریف بہت خوش نیت ہوں گے مگر اب حالات ان کے نہیں  بلکہ آئی ایم ایف کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم اپنی بدتر پالیسیوں کی وجہ سے یہ ملک گروی رکھ چکے ہیں۔ اب اس کا حل کوئی وقتی مرہم نہیں ہے۔ اب جلدی سے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اب عارضی طریقے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اب کچھ لوگوں کو سنجیدگی سے بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس ملک کا کرنا کیا ہے؟ اس میں خلق خدا کی آواز سننی ہے یا پھر ٹائم بم کی پن نکالنے بعد کی ٹک ٹک ٹک۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp