کیا مائیکروسافٹ کا نیا اے آئی ماڈل صارفین کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہے؟

جمعہ 24 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مائیکروسافٹ کی مصنوعی ذہانت کے نئے فیچر کو’سیکیورٹی ڈراؤنا خواب’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ صارفین کے پاس ورڈز اور سمیت کمپیوٹر پر نظر آنے والی ہر چیز کا اسکرین شاٹ لے لیتا ہے۔

مائیکرو سافٹ کی مصنوعی ذہانت کا نیا ماڈل جسے ’ریکال‘ کا نام دیا گیا ہے، کو مائیکروسافٹ نے صارفین کے کمپیوٹر کو ایک فوٹوگرافک میموری دینے کے طور پر بیان کیا ہے، اس فیچر کی مدد سے صارفین اپنے کمپیوٹر اسکرین پر گزری ہوئی کسی بھی چیز کو تلاش کرسکتے ہیں۔

مائیکروسافٹ  کی مصنوعی ذہانت کا یہ ماڈل تصاویر کے مواد کی بھی شناخت کر سکتا ہے، صارفین اس ماڈل سے سوال کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کمپیوٹر پر ماضی میں کیا کھولا، اس بارے میں بھی یہ فیچر تفصیلات کھول کے رکھ دے گا۔

کچھ ٹیک ماہرین کی جانب سے اس منفرد فیچر کی پذیرائی کی جارہی ہے جبکہ کچھ ماہرین اس کو صارفین کے سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

میری لینڈ یونیورسٹی میں اے آئی کے پروفیسر جین گولبیک  نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر کسی کی ڈیوائس غلط ہاتھوں میں آجاتی ہے تو اس کی سیکیورٹی محفوظ رہنا ایک ممکنہ ‘ڈراؤنا خواب’ بن سکتی ہے۔

’ڈیٹا آپ کے ڈیوائس میں ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ اس تک نہیں پہنچ سکتے،آپ کے پاس اپنے ڈیٹا کی حفاظت کا کوئی اختیار نہیں ہوگا، کیونکہ ٹول کو آپ کی اسکرین پر موجود ہر چیز تک رسائی حاصل ہے۔‘

ڈیٹا پروٹیکشن اور فریڈم آف انفارمیشن کے لیے برطانیہ کے آزاد ریگولیٹر، انفارمیشن کمشنر آفس کے مطابق صارف کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ٹول کی چھان بین کی جارہی ہے۔

آئی سی او حکام نے کہا ہے کہ وہ  توقع کرتے کہ ٹیک کمپنیاں انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹا کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہوں گی۔ ’ہم صرف اس حد تک ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کریں گے کہ کسی خاص مقصد کے لیے ڈیٹا حاصل کرنا ضروری ہو۔‘

مائیکروسافٹ نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ ناڈیلا نے کچھ دن قبل دی وال اسٹریٹ جرنل کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ویب سرچز صرف مائیکروسافٹ ایج کے ویب براؤزر پر کی جانی چاہئیں اور یہ کہ اسکرین شاٹس کبھی بھی صارف کے کمپیوٹر سے نہیں نکلتے۔

’آپ کو دو چیزیں ایک ساتھ رکھنا ہوں گی، یہ میرا کمپیوٹر ہے اور یہ میری یاد ہے، اور یہ سب مقامی طور پر کیا جارہا ہے۔‘

مارکیٹ ریسرچ فرم سی سی ایس انسائٹ کے سی ای او جیوف بلیبر نے کہا ہے کہ اس فیچر سے صارفین کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کے لیے کوئی تشویش نہیں ہے۔ ’کچھ لوگوں کا اس فیچر کی خصوصیت پر ردعمل حیران کن ہے، یہ ایک حد سے زیادہ ردعمل ہے کیونکہ ڈیٹا صرف ڈیوائس پر ہی رہتا ہے اور ڈیٹا پر صارف کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔‘

جیوف بلیبر کے مطابق صارفین اس فیچر کو اپنی مرضی سے آن یا آف کرسکتے ہیں، صارف اپنی مرضی کے مطابق اس فیچر کو بعض ایپلی کیشنز کے لیے بلاک بھی کرسکتا ہے، یعنی کون سی ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس تک ریکال رسائی حاصل کرسکتا ہے، یہ فیصلہ صارف کے اختیار میں ہے

انہوں نے کہا کہ صارف کو دیے گئے اختیار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیچر کو سیکیورٹی اور پرائیویسی کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مریم نواز کا پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز کو اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے 3 دن کا الٹی میٹم، روزانہ دوروں کا حکم

اسلام آباد: جاپان سیلف ڈیفینس فورسز ڈے کی 72 ویں سالگرہ کی پروقار تقریب کا انعقاد

امریکی وسط مدتی انتخابات ختم، 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس میں نئی صف بندی شروع

پاکپتن میں مسافر بس اور ٹرالر میں خوفناک تصادم، 11 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

پاکستان معاشی بحران سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن، آئی ایم ایف کا ٹیکس آمدن بڑھانے پر زور

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟