پاکستان کے یومِ آزادی پر جاپانی سفیر کا محبت بھرا پیغام، مضبوط تعلقات کا عزم

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئچی نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

جمعرات کو جاپان کے سفیر اکاماتسو شوچی کی جانب سے جاری ایک آڈیو، ویڈیو پیغام میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی پر حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جاپان پاکستان ایڈوانسمنٹ سینٹر کا افتتاح، جاپانی سفارتخانے کی جانب سے کتابوں کا عطیہ

انہوں نے 2027 میں پاک جاپان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر امن، ترقی اور استحکام کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

جاپانی سفیر کا خصوصی پیغام

جاپان کے سفیر برائے پاکستان اکاماتسو شوچی نے 14 اگست کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں حکومت اور عوام پاکستان کے لیے جاپان کی جانب سے نیک تمناؤں اور دلی مبارکباد کا اظہار کیا۔

سفیر اکاماتسو نے کہا کہ جاپان اور پاکستان باہمی اعتماد کے حامل شراکت دار کی حیثیت سے امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

2027 میں تعلقات کی 75ویں سالگرہ

جاپانی سفیر نے اپنے پیغام میں 2027 کو پاک جاپان تعلقات کے لیے اہم سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک آئندہ برس سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

جاپان اور پاکستان نے اپریل 1952 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام کے بعد سے باہمی تعاون سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں سمیت مختلف سطحوں پر جاری ہے۔

تجارت اور اقتصادی تعاون میں بھی اہم شراکت داری

پاکستان اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں اقتصادی تعاون کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان میں 74 جاپانی کمپنیوں کی موجودگی تھی، جبکہ جاپان نے پاکستان کو قرضوں، گرانٹس اور تکنیکی تعاون کی صورت میں طویل عرصے سے اقتصادی معاونت فراہم کی ہے۔

مزید پڑھیں:’جاپان ان آرٹ‘ نمائش: پاک جاپان ثقافتی تعلقات کا فن کے ذریعے جشن

جاپانی سفیر اکاماتسو نے فروری 2026 میں ایک میڈیا نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی دونوں ممالک کے درمیان 74 سالہ سفارتی دوستی کا حوالہ دیا تھا اور عوامی سطح پر روابط، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

جاپان پاکستان دوستی زندہ باد

اپنے ویڈیو پیغام کے اختتام پر جاپانی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور قربت کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ لگایا کہ پاک جاپان دوستی زندہ آباد۔

ان کے اس پیغام کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مستقبل میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاک جاپان تعلقات کا پس منظر

پاکستان اور جاپان کے سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے اقتصادی تعاون، ترقیاتی منصوبوں، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے اعلیٰ سطحی سیاسی اور اقتصادی رابطے بھی جاری ہیں۔

2026 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری رہے ہیں، جن میں وزرائے خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو اور دیگر سفارتی ملاقاتیں شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وائٹ ہاؤس کی تاریخ کی کم عمر ترین ترجمان کیرولین لیویٹ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟

براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

چوری شدہ امریکی شناخت اور اے آئی کا استعمال، شمالی کوریا کی مبینہ خفیہ ریموٹ ورک فورس بے نقاب

اسلام آباد: شراب برآمدگی کیس سے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری تک، اصل معاملہ کیا ہے

اسلام آباد: دریائے سواں میں گرنے والی خاتون ٹک ٹاکر کی موت کا معمہ حل ہوگیا

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہییں

13 برس بعد معلوم ہوا