فرانس میں پینشن کی عمر میں اضافے کے بل کے خلاف نواں ملک گیر احتجاج ہوا جس کی وجہ سے ٹرین سروس متاثر ہوئی اور کچھ اسکول بھی بند رہے۔
مظاہرین نےصبح سویرے جنوب مغربی فرانس میں ٹیولوز کے قریب ہائی وے اور مغرب میں واقع رینز میں ایک بس اسٹیشن کو بند کر دیا اور اس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا سلسہ شروع ہو گیا۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل مکرون کا کہنا ہے کہ تمام تر احتجاج و غصے کے باوجود یہ قانون سال کے آخر تک نافذ ہو جائے گا۔
دوسری جانب جنرل کنفیڈریشن آف لیبر کی قیادت کرنے والے فلپ مارٹینز نے کہا کہ ہم پینشن کی عمر میں اضافے کے بل کے خلاف جو بہترین جواب دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ ہڑتال کر رہے ہیں اور سڑکوں پر موجود ہیں۔
فرانس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو دو سال بڑھا کر 64 سال کرنے کی پالیسی کے خلاف مظاہرے اور یونینز کی طرف سے منعقد ہونے والی ریلیوں میں جنوری سےبہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور لوگ ان میں بڑھ چڑھ کر شرکت کررہے ہیں۔
زیادہ تر مظاہرے پر امن ہی رہے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے بل کو ووٹ کے بغیر پارلیمنٹ کے ذریعے آگے بڑھانے پر لوگوں میں غصہ بڑھ گیا ہے۔
گزشتہ سات راتوں میں پیرس اور دیگر شہروں میں کوڑے کے ڈھیروں کو آگ لگانے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اچانک مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
فرانس کی سب سے بڑی یونین دی موڈریٹ (سی ایف ڈی ٹی) کے سربراہ لارنٹ برگر کا کہنا تھا کہ حکومت کو پنشن کا قانون واپس لینا چاہیے۔
سروے پولز سے پتہ چلتا ہے کہ فرانسیسیوں کی ایک وسیع اکثریت پنشن کی قانون سازی اور حکومت کی جانب سے بغیر ووٹ کے بل پارلیمنٹ کے ذریعے آگے بڑھانے کے فیصلے کی بھی مخالفت کرتی ہے۔
جبکہ وزیر لیبر اولےوئیر ڈسوپٹ کا کہنا ہے کہ کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر پر اختلاف برقرار رہے گا لیکن دوسری طرف بہت سے ایسے موضوعات ہیں جو مکالمے کی تجدید کو ممکن بناتے ہیں۔
















