رونالڈو اور میسی بلے بازوں کے روپ میں، ’کیا بولر ہونا جرم ہے؟‘

جمعہ 31 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں شاید چند ہی لوگ ہوں گے جو لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے نام سے ناواقف ہوں۔ دنیائے فٹبال پر حکمرانی کرنے والے ان دونوں کھلاڑیوں کو شائقین بے حد پسند کرتے ہیں، فٹبال میں شاید ہی کوئی ایسا ریکارڈ ہو جو ان دونوں کھلاڑیوں کی دسترس میں نہ ہو۔

یہ دونوں کھلاڑی ویسے تو فٹبال کے اسٹار ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کی ایڈیٹڈ تصاویر وائرل ہورہی ہیں جن میں دونوں کھلاڑیوں کو ہاتھ میں بلا اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تصاویر کو شائقین کی جانب سے پسند کیا جارہا ہے اور اس پر مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ تصاویر ایڈٹ کرکے دونوں کھلاڑیوں کو بلے بازوں کے روپ میں دکھایا گیا ہے ان میں سے ایک بولر کیوں نہیں ہوسکتا؟

ایک ایکس صارف نے رونالڈو اور میسی کی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ بولر ہونا جرم ہے کیا؟

ایک صارف نے میسی کو آسٹریلیا کے اسٹار بیٹر ڈیوڈ وارنر سے تشبیہ دی تو رونالڈو کا موازنہ آسٹریلوی آل راؤنڈر مچل مارش سے کیا۔

میسی کے ایک چاہنے والے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلے باز کے روپ میں بھی بہت اچھے دکھائی دے رہے ہیں۔

شبہم لکھتے ہیں کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میسی نیوزی لینڈ جبکہ رونالڈو آسٹریلیا کے لیے کھیل رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘