کویت میں کام کرنے کے خواہشمندوں کے لیے بری خبر

منگل 4 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کویت کی وزارت افرادی قوت کے ایک خصوصی اجلاس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو ورک پرمٹ کے ساتھ اقامہ ٹرانسفر کرنے اور ان پر عائد فیس کے طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔

نئے احکامات کے تحت کویت میں نیا ورک پرمٹ حاصل کرنے کے لیے 150 دینار (ایک لاکھ 35 ہزار پاکستانی) روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔اتھارٹی نے اعلان کیا کہ ورک پرمٹ اور ملازمت کی منتقلی سے متعلق یہ ضوابط یکم جون 2024 سے نافذ العمل تصور کیے جائیں گے۔

ان نئے قوانین کے نفاذ کے لیے حکام نے اپنے خودکار نظاموں کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ آجر کمپنیاں (کفیل) اب بیرون ملک سے تارکین وطن کارکنوں کو اپنے لائسنس کے کوٹے کے حساب سے ہی کویت بلا سکتے ہیں۔

اس سے قبل بیرون ملک بھرتی کے لیے 25 فیصد اور مقامی بھرتی کے لیے 75 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔ پرانے کوٹے کے تحت بھرتیوں کی وجہ سے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ اور شہریوں پر بوجھ پڑا تھا۔

حکومت کے اس اقدام  کا مقصد ملک میں مزدوروں کی کمی کے نتیجے میں زیادہ تنخواہ ڈیمانڈ کرنے کی روایت کو کم کرنے کے علاوہ کاروباری ماحول کو فروغ دینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لبنان جنگ بندی، مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہترین سپہ سالار، قریبی دوست ہیں، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟