وزیراعظم پاکستان اور تاجکستان کے صدر کا عید الاضحیٰ پر مبارکباد کا تبادلہ

اتوار 16 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے عید کے پر مسرت موقع پر صدر رحمان اور تاجکستان کے برادر عوام کو مبارکباد دی اور دونوں ممالک میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر رحمان نے بھی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، توانائی اور رابطوں کے ذریعے تعلقات کو بڑھانے کی اپنی مشترکہ خواہش کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے آستانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باہمی فائدہ مند علاقائی اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے ’عوام پاکستان‘ کو ڈی لسٹ کردیا

اسمارٹ چشموں سے خفیہ ریکارڈنگ: لوگ ویڈیو رکوانے کے لیے ڈزنی کے گانے کیوں گانے لگے؟

مون سون بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 151 ہوگئی، 8 اگست سے نئے سلسلے کی پیشگوئی، الرٹ جاری

ایک دھن 639 سال، دنیا کا منفرد ترین موسیقی پروگرام جاری

‘بھوتوں کی مہک پہچان لیتا ہوں’، پیرانارمل انویسٹیگیٹر کے حیران کن دعوے

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟