ملک بھر میں 26 جون سے جاری مون سون بارشوں کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 151 ہو گئی ہے، جبکہ 448 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 8 اگست سے بارشوں کے ایک نئے سلسلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر
نیشنل ڈزآسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )کی تازہ صورتحال رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا، جہاں 64 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پنجاب میں 53، سندھ میں 15، بلوچستان میں 8، آزاد کشمیر میں 10 جبکہ گلگت بلتستان میں 1 شخص جاں بحق ہوا۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات ڈوبنے، گھروں کی چھتیں یا دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث ہوئیں۔
زخمیوں کی تعداد 448 تک پہنچ گئی
این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے اب تک 448 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 150 بچے، 108 خواتین اور 190 مرد شامل ہیں۔
8 اگست سے بارشوں کا نیا سلسلہ
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر 8 اگست سے ملک میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
رپورٹ کے مطابق پنجاب، شمال مشرقی سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں درمیانے درجے کی بارشیں متوقع ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 10 اگست سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، بالائی پنجاب اور بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔
اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ممکنہ بارشوں کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات مکمل رکھنے اور نشیبی علاقوں میں خصوصی نگرانی کی ہدایت کی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
2022 کے تباہ کن سیلاب میں ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا تھا، 1,700 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے تھے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا۔
اس سانحے کے بعد حکومت نے برفانی جھیلوں کی نگرانی، موسمی پیش گوئی کے نظام اور ہنگامی امدادی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں، سیلاب، گرمی کی لہروں اور خشک سالی جیسے انتہائی موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملک کے کمزور اور حساس علاقے مزید خطرات سے دوچار ہیں۔














