زمزم کی صفائی اور کوالٹی: جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

پیر 17 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عازمین مناسک حج ادا کرتے وقت زمزم کے مبارک پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔ مسجد الحرام میں زمزم کی سربراہی کی انتظامیہ پچھلے 45 سالوں سے زمزم کے کنوئیں کی نگرانی کر رہی ہے، جو پانی کو ٹھنڈا اور عام دونوں صورتوں میں فراہم کرتی ہے۔

انتظامیہ مستقل طور پر بڑی باریک بینی سے کولروں کی صفائی اور ان میں پلاسٹک کے کپ فراہم کرتی ہے، اس کے ساتھ ہی پانی پینے کی جگہوں کی باقاعدہ صفائی اور پانی کی ٹھنڈک کی نگرانی بھی کرتی ہے۔

مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے امور کی دیکھ بھال کرنے والے عام ادارے نے زمزم کے پانی کے تجزیہ اور صفائی کے لیے ایک خصوصی لیبارٹری بھی مہیا کر رکھی ہے، تاکہ اس کی کوالٹی اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

زمزم کے پانی کو بغیر کسی کیمیائی مواد کے الٹراوائلٹ شعاعوں کے استعمال سے صاف کیا جاتا ہے، جس سے 99.77 فیصد تک کی سطح پر صفائی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک کلو واٹ بجلی سے 12 ہزار گیلن پانی صاف کیا جا سکتا ہے، جو زمزم کے پانی کے رنگ، ذائقے اور خوشبو کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، ملزم کی عدم گرفتاری پر سخت ریمارکس

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں