برازیل کا جزیرہ جہاں دنیا کے زہریلے ترین سانپوں کا راج ہے

اتوار 30 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برازیل کا جزیرہ ایلاڈا قیماڈا گرینڈے دنیا کے زہریلے ترین سنہرے سانپوں کا مسکن ہے، اس جزیرے پر صرف سانپوں کا راج ہے اور یہاں انسان کا داخلہ منع ہے۔

جزیرہ ایلاڈا قیماڈا گرینڈے برازیل کے ساحل پر تقریباً 33 کلو میٹر کے فاصلے پر بحر اوقیانوس میں واقع ہے، گھنے جنگل اور پتھریلی چٹانوں پر مشتمل یہ جزیرہ 106 مربع ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

جزیرے میں ایک لائٹ ہاؤس قائم ہے تاکہ اس علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو رہنمائی ملتی رہے، لائٹ ہاؤس کا انتظام برازیل کی بحریہ کے پاس ہے، 1920 میں اس لائٹ ہاؤس کو مکمل طور پر خودکار بنا دیا گیا تھا، اب اس جزیرے پر کوئی انسان آباد نہیں ہے۔

بحریہ کے اہل کار سال میں ایک بار دیکھ بھال کے لیے اس کا معائنہ کرتے ہیں اور جزیرے میں جانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

جزیرے سے منسوب کہانیوں کے مطابق خودکار بنائے جانے سے قبل لائٹ ہاؤس میں ایک محافظ اپنی فیملی کے ساتھ رہتا تھا، ایک رات سانپوں نے لائٹ ہاؤس پر حملہ کیا تو محافظ اور اس کے خاندان کے افراد اپنی جان بچانے کے لیے ساحل کی جانب بھاگے لیکن سانپوں نے ان کو ڈس لیا اور خاندان کے سارے افراد کی جان چلی گئی۔

ماہرین کے مطابق ابتدا میں اس جزیرے پر زہریلے ترین سنہری سانپوں کی تعداد لگ بھگ چار لاکھ 30 ہزار تھی، یعنی تقریباً ہر مربع فٹ میں ایک سانپ موجود تھا۔ پھر رفتہ رفتہ ان کی تعداد کم ہوتی گئی، 2015 کے سروے کے مطابق اس جزیرے پر سانپوں کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ رہ گئی تھی۔

اس جزیرے پر سانپوں کی جانب سے پرندوں کا شکار کرنے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے، پہلے برفانی دور تک یہ جزیرہ برازیل کے ساحل سے جڑا ہوا تھا اور یہاں دوسرے جانداروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، چنانچہ سنہری سانپوں کو بھی دوسرے سانپوں کی روایتی خوراک آسانی سے مل جاتی تھی۔

جب گلیشیئر پگھلے اور برفانی دور کا خاتمہ ہوا تو ایلاڈا قیماڈا گرینڈے برازیل سے کٹ گیا، کچھ ہی عرصے میں سنہری سانپ جزیرے پر موجود اپنی روایتی خوراک کے تمام جانور ہڑپ کر گئے اور جب نوبت فاقوں پر پہنچی تو انہوں نے پرندوں کا شکار کرنا شروع کردیا،اب اس جزیرے میں پرندے بہت ہی کم نظر آتے ہیں، وہاں سانپوں کے سوا کوئی اور جاندار موجود نہیں ہے۔

سانپ اپنی خوراک کے لیے ان پرندوں کا انتظار کرتے ہیں جو آس پاس کے ساحلی علاقوں سے پرواز کرتے ہیں اور رات گزارنے کے لیے اس جزیرے کے درختوں پر اترتے ہیں، جہاں درختوں سے لٹکے ہوئے سنہری سانپ انہیں ڈستے ہیں اور پھر انہیں نگل لیتے ہیں۔

یہ سانپ اس جزیرے پر صرف 2 قسم کے پرندوں کا شکار کرتے ہیں، کیوں کہ ان کے دانت نہیں ہوتے اور وہ صرف پرندوں کو نگلتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں