چاند پر پانی کی موجودگی، چینی سائنسدانوں نے مزید کھوج لگالی

منگل 28 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی سائنسدانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کے حوالے سے ایک نیا معرکہ سر انجام دے دیا اور یہ نئی کھوج ممکنہ طور پر چاند پر انسانوں کے لیے کافی مددگار ثابت ہوسکے گی۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں چاند کی مٹی کے نمونوں کے تجزیے کے دوران اس میں پانی کی موجودگی پائی گئی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چاند پر بکھرے ہوئے شیشے کے چھوٹے چھوٹے موتیوں کے اندر پھنسے ہوئے پانی کو دریافت کیا ہے جو مستقبل میں چاند کی سطح پر انسانی سرگرمیوں کے لیے قیمتی وسائل کے ممکنہ ذخائر کی نشاندہی کرتا ہے۔

چاند کے بارے میں طویل عرصے سے خیال کیا جاتا تھا کہ وہ خشک ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کئی تحقیقات نے دکھایا ہے کہ سطح پر پانی موجود ہے اور معدنیات کے اندر پھنسا ہوا ہے۔

چین کے روبوٹک چانگ ای 5 مشن کے دوران 2020 میں حاصل کیے گئے چاند کی مٹی کے نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ پتھروں کے پگھلنے اور پھر منجمد ہونے کے نتیجے میں بننے والے شیشے کے یہ دائرے اپنے اندر پانی کے مالیکیول لیے بیٹھے ہیں جو چاند کی سطح پر سورج کی ہوا کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی اینڈ جیو فزکس سے تعلق رکھے والے سیاروں کے سائنس دان سین ہو کا کہنا ہے کہ چاند پر چھوٹے بڑے میٹیورائڈز کی مسلسل بمباری ہوتی رہتی جو یہ شیشے کے موتیوں کی مالا پیدا کرتے ہیں۔

شمسی ہوا چارج شدہ ذرات کا ایک دھارا ہے جو سورج کی فضا کے سب سے بیرونی حصے سے باہر نکلتی ہے اور نظامِ شمسی میں پھیل جاتی ہے۔

سین ہو نے بتایا کہ شمسی ہوا سے ماخوذ پانی چاند کے شیشے کی موتیوں کی سطح پر موجود آکسیجن کے ساتھ شمسی ہائیڈروجن کے رد عمل سے پیدا ہوتا ہے۔

مستقبل میں چاند پر تحقیق کے دوران خلابازوں کو یہ پانی نہ صرف پینے کے لیے بلکہ اسے ایندھن کے جزو کے طور پر استعمال میں بھی آنے کی توقع ہے۔

 

اس پانی کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟

گو زمین کے برخلاف چاند پر مائع پانی کی کمی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی سطح پر کافی حد تک پانی موجود ہے جو مستقل طور پر سایہ دار مقامات پر رہنے والے برف کے دھبوں اور معدنیات میں موجود ہے۔

سین ہو کا کہنا ہے کہ پانی سیاروں کی سطحوں کی پائیدار تلاش کے قابل بنانے کے لیے سب سے زیادہ مطلوب شے ہے تاہم وہاں تحقیق کرنے والے جب یہ جان جائیں گے کہ چاند پر پانی کیسے بنتا اور ذخیرہ ہوتا ہے تو پھر وہ اسے اپنے استعمال کے لیے حاصل کر سکیں گے جس سے انہیں خاصا فائدہ ہوگا۔

محققین شیشے کے موتیوں سے پانی کے حصول کے حوالے سے پرامید ہیں اور ان کا خیال ہے کہ حرارتی عمل کے ذریعے بخارات کو مائع میں تبدیل کیا جاسکے گا۔

سین ہو کا کہنا ہے کہ ہم ان شیشے کے موتیوں کو ان میں ذخیرہ شدہ پانی کو آزاد کرنے کے لیے آسانی سے گرم کر سکتے ہیں۔

چاند سے مٹی کے یہ نمونے شمالی چین کے علاقے منگولیا لائے گئے تھے۔

سین ہو نے بتایا کہ چانگ ای 5 مشن میں تقریباً ایک اعشاریہ 7 کلوگرام مٹی جمع کی گئی جس میں شیشے کے 32 چھوٹے بڑے موتی بھی تھے جو سینکڑوں مائیکرو میٹر تک چوڑے تھے اور ان پر تحقیق سے چاند پر پانی کی موجودگی کا عقدہ کھلا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!