مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے دوران امریکی ریاست نیویارک بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی عائد کرنے والی امریکا کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
اس فیصلے کے تحت ایک سال تک نئے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ریاستی حکومت کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعداد مقامی آبادی کے لیے کئی مسائل پیدا کر رہی ہے جن میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ، پانی کے وسائل پر دباؤ اور مقامی لوگوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات شامل ہیں۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکُل نے کہا کہ جب ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر عوام کے یوٹیلٹی بل بڑھانے، قدرتی وسائل پر دباؤ ڈالنے اور شہریوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے لگے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بروقت اقدامات کرے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ حکومت بڑے ڈیٹا سینٹرز کو دی جانے والی سیلز ٹیکس میں چھوٹ ختم کرنے کے لیے بھی قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔
نئی پابندی ان تمام ڈیٹا سینٹرز پر لاگو ہوگی جو 50 میگاواٹ یا اس سے زیادہ بجلی استعمال کریں گے۔ اس عرصے کے دوران ریاست کا محکمہ برائے ماحولیاتی تحفظ ایسے منصوبوں کے لیے نئی صوابدیدی اجازت نامے جاری نہیں کرے گا، سوائے ان درخواستوں کے جنہیں پہلے ہی مکمل قرار دیا جا چکا ہو۔
مزید پڑھیے: ’کیا ٹیک کمپنیوں کا کلاؤڈ ڈیٹا دنیا کو پانی سے محروم کر رہا ہے؟ ایمیزون کا حیران کن اعتراف
ریاستی حکام اس دوران ایک جامع ماحولیاتی اثرات کا جائزہ تیار کریں گے تاکہ مستقبل میں قائم ہونے والے تمام ڈیٹا سینٹرز کے لیے یکساں اور شفاف ماحولیاتی معیارات مقرر کیے جا سکیں۔
اس جائزے میں تعمیر اور آپریشن کے دوران ماحول، قدرتی وسائل، توانائی کے استعمال اور مقامی آبادی پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کے مطابق جب نئے ضوابط اور معیارات حتمی شکل اختیار کر لیں گے تو پابندی ختم کر دی جائے گی۔
حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم ان کے بڑھتے ہوئے توانائی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات پر مختلف ممالک میں تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
امریکا کی متعدد ریاستوں میں بھی ایسے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے جن کا مقصد ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اثرات کم کرنا اور صارفین پر بجلی کی بڑھتی لاگت کو قابو میں رکھنا ہے تاہم نیویارک اس حوالے سے مکمل پابندی عائد کرنے والی پہلی امریکی ریاست بن گئی ہے۔














