وزیر اعلیٰ کے پاس 24 گھنٹے 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے: لاہور ہائیکورٹ

بدھ 11 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بتا دیں کہ اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے کتنا مناسب وقت درکار ہے، ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔

چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی، وفاقی وزیر داخہ رانا ثنااللہ، مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود اور طاہر خلیل سندھو بھی لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس عابد عزیز نے استفسار کیا کہ کیا معاملہ حل نہیں ہوا؟ جس پر چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تمام مسائل عدالت میں حل ہوں گے۔

عدالت نے پوچھا کہ اب کیا پوزیشن ہے؟ جس پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے انہیں کافی وقت دیا، ان کا نکتہ یہی تھا کہ مناسب وقت نہیں دیا گیا، ان کے لیے عدالت نے اعتماد کا ووٹ لینے کا راستہ بھی کھلا رکھا تھا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ گورنر، وزیراعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ تو سکتا ہے، آخر میں اراکین نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے، بیرسٹر علی ظفر بتا دیں اعتماد کے ووٹ کے لیے کتنا وقت مناسب ہو سکتا ہے، ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔

جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ کے پاس پورا موقع تھا اتنے دن میں اعتماد کا ووٹ لے لیتے، جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا میں اس قانونی نکتے پر دلائل دوں گا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پرویز الٰہی تو ووٹ لے کر ہی وزیر اعلی بنے ہیں جس پر جسٹس عاصم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس 24 گھنٹے ہیں، ان کے پاس 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت می ں مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کا گورنر کے کہنے پر ووٹ لینا ضروری ہے، یہ گورنر کا اختیار ہے وہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ کوئی فریق بھی نمبرز کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں، سب سوچ رہے ہیں کہ پہلے جو کرے گا وہ بھرے گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا اب تو معاملہ مناسب وقت سے باہر آچکا ہے، جس پر چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا یہ تحریری طور پر تو کچھ نہیں لائے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اعتماد کاووٹ لینےسے وزیراعلیٰ کو تو کسی نے نہیں روکا تھا، تحریرکی کیا ضرورت ہے؟

جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے ٹھیک ہے، اگر اتفاق رائے نہیں ہے تو ہم اس کا میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔

یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کی جانب سے ہٹائے جانے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس پر لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 23 دسمبر کو نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے 11 جنوری تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے پر پیشرفت ہوئی ہے، مارکو روبیو

ٹوکنومکس: چیٹ جی پی ٹی مفت کیوں ہے، مستقبل میں اے آئی کی قیمت کیسے طے ہوگی؟

ارشد ندیم لوزان ڈائمنڈ لیگ 2026 کے جیولین تھرو مقابلے میں شامل، نیراج چوپڑا سے مقابلہ ہوگا

نواز شریف سے گزارش ہے کہ مریم نواز کو کراچی بھیج دیں، شاید وہ شہر کو ٹھیک کردیں، وسیم اختر

الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟

ویڈیو

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

وی ایکسکلوسیو: محسن نقوی کے بیان سے مسلم لیگ ن کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، انہوں نے غلط وقت پر غلط بیان دیا، عظمیٰ بخاری

ایئر انڈیا کی پرواز فضائی ہچکولوں کا شکار، 14 افراد زخمی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ