امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بحال کرنے کی کوششوں میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا، ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوری مقصد آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے جبکہ طویل المدتی مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔
روبیو نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکا کے لیے ایک بنیادی مقصد ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر اتفاق کرنا ہوگا۔
پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششیں
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان، قطر اور عمان بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
Highlights from the weekly media briefing by Dr. Majed bin Mohammed Al-Ansari @majedalansari, Advisor to the Prime Minister and Official Spokesperson for the Ministry of Foreign Affairs#MOFAQatar pic.twitter.com/szy27F62uS
— Ministry of Foreign Affairs – Qatar (@MofaQatar_EN) August 4, 2026
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کا ایران پر نئے حملے سے گریز، تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی
انہوں نے کہا کہ قطر، پاکستان اور عمان مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات، تجاویز اور مسودوں کے تبادلے میں مدد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فوری کوشش یہ ہے کہ کوئی مختصر مدتی حل نکالا جائے تاکہ وسیع تر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی امید
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے جلد کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امکان ہے کہ جلد ایسا سمجھوتا ہو جائے جس کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول پر آ سکے گی۔
Bessent on Iran:
We’ve seen Trump, last week, threaten what would have been the largest military campaign since World War II against the Iranians, and now, because of that, we are in talks with the Iranians.
I think there’s a chance we may have a deal today or tomorrow to open… pic.twitter.com/mnel0A16O0
— Clash Report (@clashreport) August 4, 2026
بیسنٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کسی معاہدے کے بعد توانائی کی عالمی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے کیونکہ کئی بحری جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کے منتظر ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران سے بات چیت جاری ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھولنا اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات جاری ہیں، اب معاہدہ ہوگا یا سرنڈر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایران کے لیے ایک اہم موقع ہے اور معاہدے کے ذریعے ہی موجودہ بحران کا حل ممکن ہے۔
تاہم ایران نے اس سے قبل امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران کی بات چیت فی الحال عمان کے ساتھ ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان کا ثالثی میں کردار
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے تاریخ اور مقام طے کرنے میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان اور قطر کی کوششوں سے ایک مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک سامنے آیا تھا جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر بات چیت شامل تھی۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with the Foreign Minister of Iran, Seyyed Abbas Araghchi.
They exchanged views on regional and international developments, including the deteriorating situation in Occupied East… pic.twitter.com/KHA2I5OctV
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 3, 2026
مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے اسی لیے اس کی بندش یا محدود آمد و رفت نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حملہ ہوا تو توانائی تنصیبات نشانہ بنیں گی،ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، ٹرمپ نے جنگ جاری رہنے کا اشارہ دے دیا
یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا فریم ورک سامنے آیا تھا جس کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کشیدگی روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام، پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق وسیع تر مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا مقصد اسی عمل کو دوبارہ فعال کرنا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکراتی راستہ بحال کرنا ہے۔













