ٹوکنومکس: چیٹ جی پی ٹی مفت کیوں ہے، مستقبل میں اے آئی کی قیمت کیسے طے ہوگی؟

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کو صارفین اور کمپنیوں تک پہنچانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک نئے مسئلے سے دوچار ہیں کہ اے آئی سروسز کی قیمت کیسے مقرر کی جائے؟

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی جلد اے آئی ڈیوائسز متعارف کرائے گا، چیٹ جی پی ٹی کے لیے نئے آلات کی تیاری

اگر کوئی صارف مفت ورژن کے ذریعے چیٹ بوٹ سے تقریر لکھواتا ہے، چھٹیوں کا منصوبہ بنواتا ہے یا کسی سوال کا جواب لیتا ہے تو اسے بظاہر بہت کم قیمت پر ایک انتہائی جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہوتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے بڑی کمپنیاں جیسے مائیکروسافٹ، گوگل اور اینتھروپک نے مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز تیار کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں اب اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اے آئی کے معاوضہ والے ورژن پیش کر رہی ہیں جن میں کوڈنگ، کاروباری کاموں اور دیگر پیچیدہ سہولتوں کے لیے اضافی فیچرز شامل ہوتے ہیں۔

اے آئی کی قیمت طے کرنا کیوں مشکل ہے؟

اے آئی کی قیمت مقرر کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹوکنز ہیں۔

ٹوکن دراصل وہ چھوٹے ریاضیاتی حصے ہیں جن میں اے آئی ماڈل صارف کے سوال کو توڑ کر سمجھتا ہے اور پھر جواب تیار کرتا ہے۔

جب کوئی صارف چیٹ جی پی ٹی یا دیگر اے آئی ماڈلز کو کوئی سوال بھیجتا ہے تو وہ سوال ٹوکنز میں تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح اے آئی کا جواب بھی ٹوکنز کی شکل میں تیار ہوتا ہے جنہیں دوبارہ عام زبان، کوڈ یا ہدایات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایپل کا اوپن اے آئی پر بڑا مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی اور آئی فون استعمال کرنے والوں پر کیا اثر پڑے گا؟

مسئلہ یہ ہے کہ ٹوکنز کا استعمال ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ایک ہی سوال مختلف انداز میں پوچھنے سے جواب بدل سکتا ہے اور مختلف اے آئی ماڈلز الگ نتائج دے سکتے ہیں جبکہ خودکار اے آئی ایجنٹس کے استعمال سے ٹوکنز کی کھپت مزید غیر متوقع ہو جاتی ہے۔

ٹوکنز سستے لیکن استعمال بہت زیادہ

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ایک ٹوکن کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود صارفین اور کمپنیوں کی جانب سے استعمال ہونے والے ٹوکنز کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

گولڈمین ساکس کے تجزیے کے مطابق سال 2026 سے سال 2030 کے درمیان ٹوکنز کا استعمال 24 گنا بڑھ کر ماہانہ تقریباً 120 کوآڈریلین (12 کروڑ ارب) ٹوکنز تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ کمپنیاں ایسے اے آئی ایجنٹس استعمال کرنا شروع کر رہی ہیں جو خود فیصلے کرنے اور کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنیوں کو اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل

کئی اداروں کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ملازمین یا سسٹمز کتنے ٹوکنز استعمال کر رہے ہیں یہاں تک کہ انہیں اچانک زیادہ بل موصول ہو جائے یا ان کا مقررہ بجٹ ختم ہو جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے اس لیے اس کی قیمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ول وینٹرز کے مطابق کمپنیاں اے آئی کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال اور نتائج دونوں مکمل طور پر متوقع نہیں ہوتے۔

مزید: چیٹ جی پی ٹی اور جیمینائی میں عجیب خامی سامنے آگئی، صارفین حیران

انہوں نے کہا کہ اے آئی ایجنٹس کی تعداد بڑھانا چند کلکس کا معاملہ ہے جبکہ انسانی ملازمین کی تعداد بڑھانے کے لیے بھرتی اور منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے جس سے اے آئی کے اخراجات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

اے آئی کمپنیاں نئی قیمتوں کے ماڈل تلاش کر رہی ہیں

ماہرین کے مطابق مستقبل میں اے آئی سروسز کے لیے مختلف طریقے آزمائے جا سکتے ہیں۔ ان میں مجموعی قیمت میں اضافہ، نتائج کی بنیاد پر فیس وصول کرنا یا مخصوص خدمات کے پیکجز متعارف کرانا شامل ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر بڑے اے آئی ماڈل بنانے والی کمپنیاں اپنی قیمتوں کی پالیسی تبدیل کرتی ہیں تو پورا نظام دوبارہ بدل سکتا ہے۔

سافٹ ویئر کمپنی سَمو لاجک کے ماہر بل پیٹرسن کے مطابق ابھی تک کسی نے بھی اے آئی کی قیمت مقرر کرنے کا مکمل حل تلاش نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں ایسی قیمتوں کو پسند نہیں کرتیں جو ہر چند ماہ بعد تبدیل ہوں کیونکہ اس سے بجٹ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

مستقبل میں اے آئی استعمال کا نیا طریقہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی اصل قدر صرف اس کے استعمال کی لاگت میں نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے میں ہوگی۔ اگرچہ زیادہ ٹوکنز استعمال کرنے سے خرچ بڑھتا ہے لیکن ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں کمپنی کو زیادہ بہتر اور تیز نتائج بھی حاصل ہوں۔

اسی لیے آنے والے برسوں میں سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ کمپنیاں اے آئی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے حاصل کریں اور اس کی لاگت کو کس طرح قابو میں رکھیں۔

یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی میں فائل لائبریری فیچر متعارف، اپ لوڈ فائلیں اب محفوظ رہیں گی

’ٹوکنومکس‘ یعنی اے آئی کے استعمال، اخراجات اور قیمتوں کا یہ نیا نظام مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم حصہ بننے جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوم استحصال کشمیر: اسلام آباد ٹریفک پولیس کا 5 اگست کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے پر پیشرفت ہوئی ہے، مارکو روبیو

ارشد ندیم لوزان ڈائمنڈ لیگ 2026 کے جیولین تھرو مقابلے میں شامل، نیراج چوپڑا سے مقابلہ ہوگا

نواز شریف سے گزارش ہے کہ مریم نواز کو کراچی بھیج دیں، شاید وہ شہر کو ٹھیک کردیں، وسیم اختر

الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟

ویڈیو

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

وی ایکسکلوسیو: محسن نقوی کے بیان سے مسلم لیگ ن کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، انہوں نے غلط وقت پر غلط بیان دیا، عظمیٰ بخاری

ایئر انڈیا کی پرواز فضائی ہچکولوں کا شکار، 14 افراد زخمی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ