پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے لیے ججز کی نامزدگی سے معذرت کرلی

جمعہ 9 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے لیے ججز کی نامزدگی سے معذرت کرلی ہے۔ ہائیکورٹ انتظامیہ نے صوبائی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی ہدایت پر رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو مراسلہ ارسال کردیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں 9 مئی کے واقعات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دے سکتے۔

مزید پڑھیں:9 مئی کو افواج پاکستان کے اتحاد کے خلاف بغاوت کرائی گئی، بھولنے کا کوئی چانس نہیں، خواجہ آصف

مراسلے کے مطابق صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے جو درخواست ارسال کی تھی موجودہ حالات میں اس پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ممکن نہیں، پشاور ہائیکورٹ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ جس فورم سے یہ درخواست ارسال کی گئی ہے وہ اس کا مجاز نہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے رولز آف بزنس 1985 کی خلاف ورزی کی ہے، اس صورت میں درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

10 کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ نے میزبان میکسیکو کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی

مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل

گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت، وزیراعظم کا شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا حکم

ویڈیو

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟