جیل حکام عمران خان کے وکلا کی عدالت میں حاضری یقینی بنائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

جمعہ 6 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکلا کی طرف سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو وکلا  کی عدالت میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردیں۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وکلا  کو عدالت میں بلاتاخیر حاضری کی خاطر  گاڑیوں کی چیکنگ کے بعد انہیں جیل کے اندر لے جانے کی اجازت ہوگی، علاوہ ازیں انہیں اپنے ساتھ 3 ایسوسی ایٹ وکلا کو لے جانے کی اجازت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ : عمران خان سے وکلا کی ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی سے جواب طلب

عدالت نے وکیل فیصل چوہدری کی طرف سے اپنے کلائنٹ کے عدالت میں اور دورانِ ملاقات پولیس افسران کی موجودگی اور ملاقات کو خفیہ طور پہ ریکارڈ نہ کرنے کی ہدیات جاری کرتے ہوئے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو اس بابت  بیان حلفی جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے اپنے احکامات پہ عمدرآمد کی ہدایات جاری کرتے ہوئے 3 وکلا پہ مشتمل عدالتی کمیشن بھی مقرر کر دیا۔ کمیشن عدالتی کاروائی اور وکلا اور عمران خان کی ملاقاتوں کی قانون اور ضابطہ رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘