عمران خان اور فیض حمید کے خلاف مقدمے میں کیا ثبوت اکٹھے کیے جا چکے ہیں؟

ہفتہ 7 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے عمران خان کے خلاف 9 مئی اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کیس کے حوالے سے فوجداری شواہد جمع کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن تاحال پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے فوجی حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انصار عباسی نے خبر دی ہے کہ اگرچہ عمران خان کے خلاف الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ کیس آرمی ایکٹ کے تحت فوجی ٹرائل کے دائرے میں آتا ہے لیکن 9 مئی کے معاملے میں عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

9 مئی کے کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کے بیانات اور متعدد شواہد کے پیش نظر ماسٹر پلانر کے طور پر عمران خان کی شمولیت یقینی طور پر مصدقہ ہے لیکن، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کا انحصار عدلیہ کے فیصلے پر ہوگا۔

مزید پڑھیں:پاک فوج جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی کا قانونی اختیار رکھتی ہے، بیرسٹر سیف

کابینہ کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں عمران خان کو 9 مئی کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نگران حکومت کے دوران 9 مئی کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق کمیٹی کو دکھائے گئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبہ بندی میں پارٹی کے کئی رہنما ملوث تھے جبکہ عمران خان نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 34 افراد پرتشدد اسٹریٹ پاور کی حکمت عملی کے ماسٹر مائنڈ تھے اور انہوں نے تشدد اور تباہی کی منصوبہ بندی میں فعال طور پر تعاون کیا۔ 52 افراد نے تفصیلی منصوبہ بندی میں حصہ لیا اور 185 افراد نے اسے عملی جامہ پہنایا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف فوج پر سیاسی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنا ایک منظم اور خطرناک حکمت عملی تھی بلکہ مسلح افواج کے اندر سے تحریک انصاف کے حق میں بغاوت کو ہوا دینے کی کوشش تھی۔

پارٹی کو ریاستی اداروں کی طرف سے پہلے تشدد کے خلاف سخت ردعمل کی کمی کی وجہ سے حوصلہ ملا تھا۔ فوجی تنصیبات پر حملے کا مقصد فوج کے حوصلے پست کرنا اور اس پر سیاسی ڈیل کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

مزید پڑھیں:فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پی ٹی آئی اراکین سے رابطے میں تھے، رؤف حسن کا اعتراف

انصار عباسی نے جنرل فیض کیس کے حوالے سے ذرائع سے پوچھا کہ کیا عمران خان اور جنرل فیض کے درمیان انکی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی مجرمانہ تعلق پایا جاتا ہے؟ انہیں اثبات میں جواب ملا تاہم یہ تصدیق نہیں کی کہ اس طرح کا مجرمانہ تعلق 9 مئی کے حملوں سے جڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے حملوں میں جنرل فیض کے کردار کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ عمران خان کے فوجی ٹرائل کے حوالے سے عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کا ملٹری ٹرائل عالمی توجہ مبذول کرائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں ملوث پی ٹی آئی کے کسی بھی اہم سیاسی رہنما پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا گیا۔تاہم حکام کو امید ہے کہ سویلین عدالتیں انصاف کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم