کراچی: ڈاکوؤں کا پولیس اہلکاروں پر تشدد، سرکاری اسلحہ اور موبائل فون چھین کر فرار

منگل 24 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شہریوں کی حفاظت کی دعویدار کراچی پولیس کے اہلکار ایک بار پھر خود لٹ گئے۔ ڈاکوؤں نے سپر ہائی وے پر پولیس افسر اور اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے سرکاری اسلحہ اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق، گزشتہ شب سب انسپکٹر شہزاد حسین اورکانسٹیبل ذاکر حسین ایم نائن موٹر وے پر ڈیوٹی کرکے واپس لوٹ رہے تھے۔ پولیس پارٹی میں شامل خاتون ہیڈ کانسٹیبل اپنی کار میں روانہ ہوئی، جبکہ مرد پولیس افسر اور اہلکار موٹرسائیکل پر روانہ ہوئے، ایم نائن موٹر وے حیدر آباد سے کراچی ٹریک پر رویندہ روڈ کے قریب پہنچے تو 3 ملزم آگئے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کراچی پولیس ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ بنتی جارہی ہے؟

متاثرہ پولیس افسر کے مطابق، ملزموں نے اپنے ہتھیار لوڈ کرکے ہمارے سروں پر لگائے اور بائیک رکوا کر ہماری مکمل تلاشی لی، ملزموں نے ہم سے سرکاری نائن ایم ایم پستول، موبائل فونز، دستاویزات اور نقدی چھین لی، کانسٹیبل نے ملزموں کو پکڑنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمارے سروں پر  کئی بار بٹ مارے اور زخمی کرکے فرار ہوگئے۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ گڈاپ سٹی میں درج کر لیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی بڑی ناکامی، آئی فون 18 کی لانچ سے قبل ایپل کا حساس ڈیٹا چوری

پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کو کشمیریوں کی لاشوں سے گزرنا ہوگا، تنویر الیاس

’یہ بہت پریشان کن ہے‘، جعلی شادی کی خبر پر توثیق حیدر بول اٹھے

فیفا ورلڈ کپ: رونالڈو نے پنالٹی سے پہلے ’بسم اللہ‘ پڑھا؟ وائرل ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی

آن لائن حج رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ، 11 روز میں 2 لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن مکمل

ویڈیو

خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو