’عامر جمال کو ٹیم سے نکالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے‘، سوشل میڈیا پر یہ باتیں کیوں ہورہی ہیں؟

بدھ 9 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عامر جمال کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں گراؤنڈ میں ہیٹ پہنے دیکھا جا سکتا ہے جس پر 804 لکھا ہوا ہے۔ یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو پی ٹی آئی کے حامی صارفین کی جانب سے تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ عامر جمال بھی عمران خان کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کے دیوانے ہیں۔

فاطمہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ اب عامر جمال کو ٹیم سے نکالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک پیج کی جانب سے کہا گیا کہ عامر جمال بھی قیدی نمبر 804 یعنی عمران خان کے دیوانے نکلے۔

شائستہ جبیں لکھتی ہیں کہ اس ویڈیو کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عامر جمال کا کیرئیر خطرے میں ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ اب عامر جمال کو قومی ٹیم سے نکالنا زیادہ دور نہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے جیل جانے کے بعد ’قیدی نمبر 804‘ کی اصطلاح تحریک انصاف کے کارکنان اور حامیوں میں ان سے محبت کی وجہ سے عام ہے۔ اسی نمبر کی شرٹس، ٹوپیاں اور دیگر سامان بھی مارکیٹ میں موجود ہے جبکہ پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے قیدی نمبر 804 پر نغمے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

حالیہ کارکردگی پر ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، محمد رضوان کا اعتراف

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟