بنگلہ دیشی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 سرحدی مقامات سے 129 افراد کو بنگلہ دیشی علاقے میں دھکیلنے کی کوشش کی ہے، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
بنگلہ دیشی بارڈر فورس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحد کے ساتھ نگرانی، انٹیلیجنس مانیٹرنگ اور گشت کے عمل کو انتہائی سخت کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبی تنازع: بنگلہ دیش کا مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان
ترجمان کے مطابق کسی بھی فرد یا گروہ کو غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بین الاقوامی سرحدی قوانین و دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والی ہر ایسی کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
بی جی بی حکام کے مطابق یہ مبینہ واقعات چلی پائی نواب گنج، نیٹروکونا، سلہٹ، پنچ گڑھ، ٹھاکر گاؤں، جے پور ہاٹ، کھلنا اور جھنائیدہ اضلاع کے سرحدی علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، جھنائیدہ کے مہیش پور سیکٹر میں بی جی بی کے گشتی دستوں نے جادب پور سرحدی علاقے سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے کئی افراد کو روک کر واپس بھارتی علاقے میں دھکیل دیا۔
بنگلہ دیشی فورسز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعد ازاں بی ایس ایف کے اہلکار ایک جیل وین میں تقریباً 30 سے 35 افراد کو لے کر آئے اور انہیں سرحد پار بھیجنے کی کوشش کی، تاہم بی جی بی اہلکاروں اور مقامی شہریوں نے مل کر اس کارروائی کو ناکام بنا دیا، اسی طرح کے واقعات جیسور اور جے پور ہاٹ میں بھی دیکھے گئے جہاں بنگلہ دیشی حکام کو بھارتی سرحد پر لوگوں کو جمع کرنے کی انٹیلیجنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائرنگ، 2 بنگلہ دیشی شہری جاں بحق
بنگلہ دیشی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بھارتی حدود میں باقاعدہ ایسے ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگوں کو بنگلہ دیش دھکیلنے سے قبل رکھا جاتا ہے، اس صورتحال کے بعد بنگلہ دیش نے حساس سیکٹرز میں سیکیورٹی اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا ہے۔
دوسری جانب چلی پائی نواب گنج کے بنگا باری بارڈر پر صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جاتی ہے جہاں ایک مبینہ پش ان کی کوشش ناکام ہونے کے بعد 28 افراد دونوں ممالک کے درمیان ’زیرو لائن‘ پر پھنس کر رہ گئے ہیں، جن میں 12 مرد، 10 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جو کھلے آسمان تلے بارش اور شدید موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔
مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ دونوں ممالک کی باڑ کے درمیان محصور ہے اور دونوں طرف کی بارڈر فورسز اپنی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہیں، بی جی بی حکام کے مطابق اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے بی ایس ایف کے ساتھ کمپنی کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کی سطح پر دو دور کے فلیگ میٹنگز منعقد کی گئیں، تاہم یہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سلہٹ سرحد پر بھارتی فائرنگ پر بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی جوابی کارروائی
16 بی جی بی بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف الاسلام معصوم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکام محصور افراد کو قائمہ قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے تحت واپس بھیجنے کی کوششیں جاری رکھیں گے، یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں سرحد پار سے پش ان کی کوششوں میں اضافے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں وقتاً فوقتاً تناؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔














