ریاستی اسمبلی کا مطالبہ مسترد، دُنیا کی کوئی طاقت کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کر سکتی، نریندر مودی

جمعہ 8 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی جزوی خودمختاری ختم کرنے کے 2019 کے متنازع فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دفعہ 370 کی بحالی، مقبوضہ کشمیر اسمبلی نے بڑا فیصلہ کرلیا

جمعہ کو مغربی ریاست مہاراشٹر میں ایک ریاستی انتخابی ریلی سے خطاب کر تے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ کشمیر میں صرف بابا صاحب امبیڈکر کا آئین ہی چلے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیر میں آرٹیکل 370 (جزوی خودمختاری) کو بحال نہیں کر سکتی۔

نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے 2019 میں کشمیر کی جزوی خودمختاری ختم کردی تھی اور ریاست کو وفاق کے زیر انتظام 2 علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حالات بہت کچھ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر

مقبوضہ کشمیر میں ستمبر اور اکتوبر میں ایک دہائی بعد پہلے مقامی انتخابات ہوئے جن میں نو منتخب قانون سازوں نے رواں ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کشمیر کے اسٹیٹس کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کشمیر کی حکمراں نیشنل کانفرنس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کی جزوی خودمختاری والے قانون کو بحال کرے گی لیکن ترمیم کے بعد ایسا کرنے کا اختیار مودی کی وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کیخلاف قرارداد کی منظوری سے کیا اثر پڑے گا؟

بھارت کے نام نہاد آئین کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے نئے قانون ساز سوائے امن عامہ اور پولیسنگ کے معاملات کے دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح مقامی مسائل پر قانون سازی کر سکتے ہیں۔ انہیں ان تمام پالیسی فیصلوں پر بھی وفاقی طور پر مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کی منظوری کی بھی ضرورت ہوگی۔

جزوی خود مختاری کے ایکٹ کے تحت مقبوضہ کشمیر کا اپنا آئین تھا اور خارجہ امور، دفاع اور مواصلات کے علاوہ تمام معاملات پر قوانین بنانے کی آزادی تھی۔

مزید پڑھیں آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ کرنے والوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے، وزیراعظم چوہدری انوارالحق

مقبوضہ کشمیر جہاں حریت پسند 1989 سے سیکیورٹی فورسز سے لڑ رہے ہیں، بھارت کا واحد مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ 1947 میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی تنازعات کا واحد مرکز رہا ہے۔

کشمیر ایک مکمل خطہ ہے، جسے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ شامل کیا جانا تھا، لیکن بھارت نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار کر اس پر جبراً قبضہ کر لیا تھا، تب سے بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں کشمیر اور آزاد کشمیر میں جزوی خود مختار حکومتیں قائم تھیں، لیکن 2019 میں بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی جزوی خودمختاری بھی ختم کر دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ 2034 سے قبل لاکھوں پاکستانی ورکرز کی تربیت کا بڑا منصوبہ

’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف

پاک امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم، امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹالی بیکر کا اہم ویڈیو پیغام جاری

خواجہ آصف کا پارلیمنٹ میں سخت مؤقف، ’ویگو ڈالے‘ کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان کے معدنی ذخائر عالمی سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکز، 6 کھرب ڈالر کے امکانات

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟