لاہور ہائی کورٹ، پنجاب میں رمضان بازاروں کے لیے مختص رقم کی تفصیلات طلب

منگل 11 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے رمضان بازاروں کے لیے 2ارب کی مختص کردہ رقم کے اخراجات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے رمضان بازاروں کے لیے مختص کردہ رقم اب کہاں استعمال ہوگی۔

عدالت نے نگران پنجاب حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو رمضان ہی ختم ہونے جا رہا ہے، یہ پیسہ کیسے ضائع کیا جاسکتا ہے، بتایا جائے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےتحت تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟

نگران حکومت پنجاب نے رمضان پیکج کےلئے 2ارب روپے کےمختص فنڈز کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں، جس پر عدالت نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیکج تو رمضان کے لیے جاری ہوا تھا، کیا اسے لاگو تب کریں گے جب رمضان گزر جائے گا؟

سرکاری وکیل نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس بار فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی سمری آئی تھی کہ سبسڈی صرف آٹے پردی جائے۔

عدالت نے سوال کیا کہ کس قانون کےتحت سبسڈی صرف آٹے پردینےکا فیصلہ کیا گیا؟؟

محکمہ خوراک افسر نے اپنے موقف میں کہا کہ گندم ریلیز پالیسی کے تحت گندم فلور ملز کو فروخت کی جاتی ہے۔

عدالت نے پوچھا کہ قانون گندم کی فروخت کا ہے تو فلور ملز سے آٹا کس قانون کےتحت لیا گیا؟ عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تذلیل کرکے سبسڈی دینے کے بجائے فلور ملوں کے ذریعے سب کو سبسڈی دینا مناسب تھا۔ اگر ٹارگٹڈ سبسڈی دینا ہی تھی تو بے نظیر انکم سپورٹ میں 1000، 1500روپے اضافی بھجوا دیتے۔ جو مستحقین رجسٹرڈ نہیں تھے تو انہیں رجسٹرڈ کرتے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذمہ دار افسران کو طلب کرلیا اور کہا کہ لائنوں میں لگوا کر دنیا کو کیا بتا رہے ہیں کہ یہ بھکاری ہیں؟  نگران حکومت کو کسی اشتہار بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے اپنے چینل پر 2،2گھنٹے کے پروگرام کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟