پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا ہوا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

ہفتہ 30 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی عمران خان کی ہدایت سے مشروط کی گئی ہے، اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں پی ٹی آئی احتجاج: کنٹینر سے گرنے والا شخص کہاں گیا؟، نئے حقائق سامنے آگئے

ذرائع کے مطابق اجلاس میں دوبارہ احتجاج کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم شرکا نے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران مرکزی قیادت کے غائب ہونے پر سوالات اٹھائے، اس کے علاوہ ڈی چوک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد کے معاملات پر بحث کی گئی۔

اجلاس میں عمر ایوب، فیصل امین، اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ جبکہ اسد قیصر، شہرام ترکئی، عاطف خان سمیت اہم اراکین شریک نہیں ہوئے تھے۔

ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھاؤ، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا وفاقی حکومت کو چیلنج

واضح رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد صوبائی اسمبلی کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ میں ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آرٹیکل 245 کا نفاذ کرکے ہمیں سیکیورٹی فورسز سے گولیاں مروائیں، اس بات کا افسوس ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈرو اس وقت سے جب ہم نے گولی کا جواب گولی سے دینے فیصلہ کرلیا، اسلحہ اور دولت ہمارے پاس بھی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ اسلام آباد احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی میرے ساتھ تھیں، اس دوران ہم پر قاتلانہ حملے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بشریٰ بی بی نے ہر صورت ڈی چوک جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ترجمان مشعال یوسف زئی نے سب بتادیا

انہوں نے کہاکہ پنجاب پولیس سے کچے کے ڈاکو قابو ہو نہیں رہے لیکن ہمارے نہتے لوگوں پر گولیاں برسائیں، جب ہمارے لوگوں نے پکڑا تو عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے، ہمارا ظرف تھا کہ ہم نے انہیں چھڑوایا۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ اسلام آباد میں مجھے اور بشریٰ بی بی کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ہم عمران خان کی اہلیہ کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں کامیاب رہے۔

انہوں نے کہاکہ میرا حکومت اور اداروں کو واضح پیغام ہے کہ ہمیں کرسی نہیں عزت عزیز ہے، غلامی نہیں خودداری چاہیے۔ جب تک پوری قوم آزادی کے لیے جدوجہد نہیں کرے گی انقلاب نہیں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ ڈی چوک کو قومی و بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ ہمیں جلد سے جلد عمران خان کی رہائی چاہیے، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔ ہم نے آئندہ کی حکمت عملی تیار کی ہے، حکومت ہو یا نہ ہو ہم اس پر عمل کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘